سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 223
۲۲۳ کی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السّلام کا نام نہ لیتے تھے تو مجھے بہت برا معلوم ہوا یہ لوگ تو کہتے ہیں کہ ہماری یونسی مخالفت شروع کر دی گئی کچھ سوچا نہ سمجھا ہے، لیکن وہ نہیں جانتے کہ اس وقت پہلے میں نے استخارہ کیا کہ الہی اگر یہی طریق تبلیغ اچھا ہے تو مجھے بھی اس پر انشراح کر دے۔بار بار دعا کرنے پر رڈیار میں میری زبان پر ایک اُردو شعر جاری ہوا جو شعر تو یاد نہیں رہا مگر اس کا مطلب یاد ہے جو یہ ہے کہ جن کے پاس قاق نہیں ہوتا وہ نان ہی کو قاق سمجھ لیتے ہیں۔اس لفظ قاق کے متعلق میں نے کئی لوگوں سے دریافت کیا کہ اس کے کیا معنی ہیں۔لیکن وہ کچھ نہ بتا سکے۔پھر کئی لغت کی کتابوں کو دیکھا وہاں سے بھی نہ ملا۔آخر بڑی تلاش کے بعد ایک لغت کی کتاب سے معلوم ہوا کہ قاق کیک کو کہتے ہیں اور یہ عربی لفظ ہے تو اس قسم کے نئے الفاظ کا بتایا جانا ثبوت ہوتا ہے اس بات کا کہ یہ خواب خدا کی طرف سے ہے یاسہ آپ کی یہ تقریرہ محض ایک علمی کارنامہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسے صاحب تجربہ بزرگ کی شہادت کا درجہ رکھتی ہے جو رڈیار و کشون کے کوچے سے خوب آشنا ہو۔آج بھی اس کے پڑھنے سے دل پر آپ کے اعلیٰ روحانی مقام کا نقش ثبت ہو جاتا ہے۔اس تقریر میں آپ نے علم تعبیر کا بھی مختصراً ذکر فرمایا۔اس ضمن میں تمہیں یہ ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ خود آپ کو خوابوں اور رڈیار کی تعبیر کا غیر معمولی ملکہ حاصل تھا جو انسان کو اکثر ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا تھا۔بلاشبہ ہزارہا مردوں اور عورتوں نے جن میں احمدی بھی شامل تھے اور غیر احمد می بھی ، آپ سے اپنی خواہیں بیان کیں یا لکھ کر اُن کی تعبیر پوچھی اور آپ کی تعبیر ہمیشہ نہایت حکیمانہ اور عارفانہ ہوتی اور ایسے نکات نکالتے جن کی طرف عام حالات میں انسانی ذہن منتقل نہیں ہو سکتا۔ایک مرتبہ ربوہ کے ابتدائی ایام میں جبکہ یہ شہر ابھی نیا نیا آباد ہوا تھا اور حضرت حیات اپنے اہل خانہ سمیت عارضی طور پر بنے ہوئے کچے مکانوں میں رہائش پذیر تھے دوپہر کا کھانا کھاتے ہوئے سید نعیم احمد شاہ صاحب نے جو سیدہ مہر آیا صاحبہ کے چھوٹے بھائی ہیں حضرت صاحب سے عرض کیا کہ رات انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ کنڈی سے مچھلی پکڑ رہے ہیں۔غالبا یہ بھی ل حقيقة الرؤياء من