سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 192 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 192

۱۹۲ نظام مجلس شوری کی امتیازی خصوصیا اور بید کی ترقی مجلس مشاورت کا نظام ایک دلچسپ اور اہم مطالعہ کا مواد پیش کرتا ہے۔سولہ سے لیکر ۱۹۶۵ ء تک یہ ادارہ براہِ راست حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی زیر تربیت اور زیر نگرانی نشو و نما پاتا رہا۔اس میں جو بھی نئی نئی شاخیں نکلیں اور جو خد و خال ظاہر ہوئے وہ دو امور کی بالخصوص عکاسی کرتے ہیں۔اول - حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ذہن میں اسلام کے مشاورتی نظام کا تصور کیا تھا۔دوم۔اس تصور کے نفاذ میں اور عملی صورت میں اُسے با حسن جاری کرنے میں آپ نے کیا اہم کردار ادا کیا۔جماعت احمدیہ میں رائج مجلس شوری کے نظام کا مطالعہ فی ذاتہ بھی اس زمانہ میں خاص لچسپی کا حامل ہے کیونکہ مذاہب اور نظریات کے موازنہ میں پچسپی رکھنے والے اہل فکر و نظر کے لئے یہ تحقیق کا ٹھوس مواد اور اسلامی نظام شوری کا دیگر مذہبی اور غیر مذہبی مشاورتی اداروں سے مقابلہ اور موازنہ کا بہترین موقعہ فراہم کرتا ہے۔ضمنا یہ ذکر بے جانہ ہوگا کہ اس زمانہ میں بعد ازاں جماعت اسلامی کے سربراہ جناب مولوی مودودی صاحب نے بھی جماعت اسلامی میں ایک مجلس شوری قائم کی۔قطع نظر اس سوال کے کہاں تک انہوں نے نظام جماعت احمدیہ سے استفادہ کیا یا برعکس شکل اختیار کی۔اُن کے تصویر اسلام اور جماعت احمدیہ کے تصویر اسلام کی عملی تشکیل کی ان دو صورتوں کے مابین مقابلہ و موازنہ کا مضمون آئندہ محققین کے لئے ایک دلچسپ مطالعہ کا سامان فراہم کرے گا۔اور دن بدن به حقیقت زیادہ عیاں اور روشن تر ہوتی چلی جائے گی کہ دونوں نظاموں میں سے کونسا نظام در حقیقت الہی نظام کہلانے کا مستحق ہے اور خدا تعالے کی براہ راست آسمانی ہدایت اور رہنمائی کے تحت جاری ہوا ہے۔اب ہم ذیل میں اس مشاور کی ادارے کے خدو خال کو اجمالی صورت میں پیش کرتے ہیں جماعت احمدیہ میں مجلس مشاورت کا نظام نظام خلافت سے وابستہ اور اسی پر منحصر ہے اور