سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 193
١٩٣ جماعت احمدیہ کے نزدیک خلیفہ اسیح شَاوِرْهُمْ فِی الامر کے مخاطب کی حیثیت سے جب چاہیے اور جس رنگ میں چاہے مشورہ کے لئے صائب الرائے احباب کو دعوت دے سکتا ہے۔ہر ایسے مشورہ کی ابتداء دعاؤں اور ذکر الہی کے ساتھ ہوتی ہے تاکہ فیصلہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ کا خوف اور تقویٰیٰ مدنظر رہے اور اس کی نصرت اور رہنمائی شامل حال رہے۔وہ شخص جسے کوئی مشورہ پیش کرتا ہو اُسے پوری آزادی ہے کہ باجازت صدر مجلس بے تکلفانہ رائے کا اظہار کرے۔لیکن ضروری ہے کہ اس مشورہ میں اصل مخاطب حاضرین مجلس نہ ہوں بلکہ خلیفہ ایسے ہوں بعد مشورہ خلیفہ ایسیح کو پورا اختیار ہے کہ خواہ کثرت رائے کے مشورہ کو قبول کریں یا رد کر دیں۔یہ جماعت کی مجلس مشاورت کے نظام کا اصولی خلاصہ ہے۔اب ہم اس کے ارتقائی ادوار کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کرتے ہیں اور خصوصاً ایسے پہلوؤں کو ہم ملحوظ رکھیں گے جو کسی نہ کسی نقطہ نظر سے حضرت خلیفہ ایسے کی قلبی ذہنی اور عمانی صلاحیتوں پر روشنی ڈالنے والے ہوں۔ابتداء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے نمائندوں کے انتخاب کا یہ طریق اختیار فرمایا کہ جن صائب الرائے دوستوں کو آپ ذاتی طور پر جانتے تھے۔اور ان کی ضرورت محسوس فرماتے تھے ان کو براہ راست دعوت دے کر مجلس مشاورت میں شمولیت کے لئے بلایا جاتا تھا۔لیکن اکثر ممبران مجلس مشاورت ایسے نمائندگان پرمشتمل ہوتے تھے جنہیں جماعت احمدیہ کی مختلف شاخیں یعنی مقامی جماعتیں اپنے میں سے صائب الرائے سمجھ کر یا کسی ایسے فن کا ماہر دیکھ کر جیس پر بحث مطلوب ہو منتخب کر لیتی تھیں۔لیکن تعداد نمائندگی پر کوئی پابندی نہ تھی۔جب جماعت کی تعداد بڑھ گئی اور مجلس مشاورت کے متعلق پچیس پی میں بھی نمایاں اضافہ ہو گیا۔تو ضروری سمجھا گیا کہ تعداد نمائندگان کی حد بندی کی جائے اس ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : اس سال نمائندگان کے انتخاب کو بعض خاص شرائط عائدہ کر کے محدود کر دیا گیا ہے۔بعض جماعتوں کو اس طرح اب کھلی آزادی حاصل نہیں رہی کہ وہ اپنی جماعتوں میں سے جتنے نمائندے چاہیں بھیجوا دیں۔بلکہ حد بندی کر دی گئی ہے اور جوں جوں ہماری جماعت ترقی کرے گی اس کے ساتھ ساتھ یہ پابندیاں شاید اور بھی بڑھانی پڑیں گی بلکہ