سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 174 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 174

۱۷۴ اتنا دلچسپ اور دل گداز تھا کہ اس لیے سفر کے ختم ہونے کا احساس بھی نہ ہوا۔محترم مرزا حساب حضرت صاحب کی غیر معمولی شفقت کے واقعات بیان کرتے تو بسا اوقات آواز گلو گیر ہو جاتی۔اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے۔مختلف واقعات میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ ایک مرتبہ مرزا صاحب کو ایک غیر از جماعت دوست کی سفارش کے سلسلہ میں ان کے ساتھ حضور کی ملاقات کے لئے دھرم سالہ جانا پڑا۔دھرم سالہ ایک صحت افزاء پہاڑی مقام ہے جہاں حضور کبھی کبھی گرمیوں میں تشریف لے جایا کرتے تھے۔مرزا صاحب کو رہائش کے لئے ان کوارٹروں میں جگہ ملی جہاں مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب رضی اللہ عنہ اور مکرم مولانا عبدالرحیم صاحب درد رضی اللہ عنہ قیام پذیر تھے۔وہ جگہ کوئی خاص آرام دہ جگہ نہیں تھی۔حضرت صاحب سے ملاقات کے بعد مرزا صاحب جب واپس اپنے گھر گورداسپور پہنچے تو حضرت صاحب نے خط لکھ کر آپ سے دریافت فرمایا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ کے چہرے پر بہت افسردگی تھی۔اس پر مرزا صاحب نے بے تکلفی سے یہ لکھ دیا کہ کچھ تو سفر کی تکان کا اثر تھا لیکن زیادہ تر اس وجہ سے کہ جہاں میں ٹھہرا تھا وہ جگہ کوئی آرام دہ جگہ نہ تھی۔جب حضور پہاڑ پر تشریف لے جاتے ہیں تو کو بھی کوئی ایسی لیا کریں۔جہاں مہمانوں کے ٹھرنے کے لئے نسبتاً زیادہ مناسب انتظام ہو۔بظاہر یہ بات آئی گئی ہو گئی۔لیکن دوسرے ہی سال جب حضرت صاحب دوبارہ دھرم سالہ تشریف لے گئے تو مرزا صاحب کو تار دے کر طلب فرمایا۔وہ کہتے تھے کہ میں گیا تو اس حصہ میں جہاں حضور خود قیام فرما تھے۔ساتھ کا کمرہ خالی کروا دیا اور بے حد تلطف کے ساتھ غیر معمولی مہمان نوازی کے علاوہ خود میرے کمرے میں تشریف لائے اور میری چار پائی پر بیٹھ کر دیر تک بڑی محبت سے گفتگو فرماتے رہے۔میں جانتا تھا کہ یہ سب اُس شکوہ کا ازالہ ہو رہا ہے جو میں نے بے تکلفی میں گزشتہ سال کیا تھا۔گموگا سب احباب جماعت سے حضور کا سلوک ایسا ہوتا تھا کہ سب یہی تاثر لیتے کہ خاص مقرب ہیں۔لیکن امراء میں تو بالخصوص یہ تاثر غیر معمولی شدت سے پایا جاتا تھا۔چنانچہ میں نے چین پرانے امراء سے بھی بات کی ہر ایک نے یہی بیان کیا کہ اُن پر حضور کی شفقت کی نظر غیر معمولی تھی۔یہ ایسی یادیں ہیں جو دل سے مٹائی نہیں جاسکتیں۔حضور کے پرانے ساتھی اور سلسلہ کے دیرینہ کارکنان جس محبت اور عشق کے ساتھ آپ کا ذکر کرتے ہیں اس جذبے کو