سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 173
غلطی ہوئی تو خود اسے سمجھا دیتے ورنہ بدظنی اور مبالغہ کرنے والے ناقد کی خاطر خواہ گو شمالی فرماتے گھوگا امراء کے ساتھ حضور کا سلوک نہایت مشفقانہ تھا۔خصوصا پرانے خدام سلسلہ سے تو گرا قرب کا تعلق تھا۔ان پر غیر معمولی اعتماد فرماتے۔وقتاً فوقتاً اہم امور میں مشورہ کے لئے طلب فرماتے رہتے۔امارت کے کام کے علاوہ بھی اہم جماعتی ذمہ داریاں ان کے سپرد کرتے کبھی ناراض بھی ہوتے لیکن ناراضگی کے بعد میں غیر معمولی شفقت اور دلداری کا سلوک فرماتے وہ قلوب میں کچھ ایسی کیفیت پیدا کرتا کہ شخص متعلقہ زبان حال سے یہ کہ اٹھتا کہ ہ صیحتیں لاکھوں مری بیماری غم پر نشار جس میں اُٹھے بارہا انکی عیادت کے مزے خفا ہوتے لیکن ناز برداری بھی کرتے۔بے تکلف مجالس میں بے تکلف اظہار خیال کی نہ صرف اجازت دیتے بلکہ پسند فرماتے کہ احباب کھل کر اپنے دل کی بات کریں۔خود اپنے خلاف شکوے بھی سنتے اور بڑے دلپذیر انداز میں ان کا ازالہ بھی فرماتے۔اپنے مقرر کردہ امراء سے حضور خاص محبت اور شفقت کا تعلق رکھتے تھے۔خلیفہ اور امیر کے مابین محض رسمی قانونی رشتہ نہ تھا بلکہ اس میں ذاتی تعلق اور گری ہمدردی اور شفقت کی وجہ سے ایک غیر معمولی جذباتی قوت بھی پیدا ہو جاتی تھی۔اگر اس سلسلہ میں ان تمام امراء کے ذاتی تجارب مشاہدات اور واردات کو اکٹھا کیا جائے جنہیں حضور کے ساتھ آپ کے مقرر کردہ امیر کی حیثیت سے کام کرنے اور اس تعلق سے لطف اندوز ہونے کا موقعہ ملا، تو بلاشبہ یہ ایک طویل داستان بن جائے گی۔سردست صرف اتنا ذکر کافی ہے کہ جب بھی بعض ایسے امراء سے گفتگو ہوئی جنہیں آپ کے زمانہ میں امارت کے فرائض سرانجام دینے کا موقع ملا تو میں نے دیکھا کہ حضور کی شفقت کی یادیں برساتی گھٹاؤں کی طرح ان کے قلب و ذہن کی کائنات پر چھا گئیں۔مکرم مرزا عبد الحق صاحب سلسلہ کے اُن پرانے مخلص خادموں میں سے ہیں جنہیں امیر جماعت مقامی وضلع وصوبہ کی حیثیت سے بہت لمبا عرصہ سلسلہ کی خدمت کی توفیق علی ہے۔ایک مرتبہ سیالکوٹ سے واپسی پر ہمیں اکٹھے کار میں سفر کرنے کا موقع ملا۔اس سفر میں سیالکوٹ سے لے کر سرگودھا تک مسلسل حضرت خلیفہ مسیح اللہ کی رضی اللہ عنہ کا ذکر چلتا رہا۔محترم مرزا صاحب مختلف واقعات بیان کرتے رہے۔بات سے بات نکلتی چلی گئی۔یہ ذکر