سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 10
تو کیا اس کا نتیجہ یہ سمجھنا چاہیئے کہ نعوذ باللہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلافت کی خواہش منتھی کہ صرف تین آدمیوں کی بعیت پر آپ بیعت لینے کے لئے تیار ہو گئے۔اور با وجود سخت مخالفت کے بیعت لیتے رہے یا یہ نتیجہ نکالا جائے کہ آپ کی خلافت نا جائز تھی مگر جو شخص ایسا خیال کرتا ہے وہ جھوٹا ہے۔۔۔۔پس خدا کا خوف کرو اور اپنے منہ سے وہ باتیں نہ نکالو جو تمہارے لئے مصیبت کا باعث ہوں۔اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرو اور وہ سلسلہ تو اس کے مامور نے سالہا سال کی مشقت اور محنت سے تیار کیا تھا اُسے یوں اپنے بغضوں اور کینوں پر قربان نہ کرو۔مجھ پر اگر اعتراض ہوتے ہیں کیا ہوا ؟ مجھے وہ شخص دکھاؤ جس کو خدا نے اس منصب پر کھڑا کیا جس پر مجھے کیا اور اس پر کوئی اعتراض نہ ہوا ہو۔جبکہ آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا تھا۔تو میں کون ہوں جو اعتراضوں سے محفوظ رہوں فرشتوں نے بھی اپنی خدمات کا دعوی کیا تھا۔اور ابلیس نے بھی اپنی بڑائی کا دعوی کیا تھا۔مگر بے خدمت آدم جو ان کے مقابلہ میں اپنی کوئی بڑائی اور خدمت نہیں پیش کر سکتا تھا۔خدا کو وہی پسند آیا اور آخر سب کو اس کے سامنے مجھکنا پڑا۔وہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں یا اب تک بعیت میں داخل نہیں ہوئے آخر کیا چاہتے ہیں۔کیا وہ چاہتے ہیں کہ آزاد رہیں۔مگر وہ یاد رکھیں کہ ان کا ایسا کرنا اپنے آپ کو ہلاک کرنے کے مترادف ہوگا۔پھر کیا وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی اور خلیفہ مقرر کریں اگر وہ ایسا چاہتے ہیں تو یاد رکھیں کہ ایک وقت میں دو خلیفہ نہیں ہو سکتے اور شریعت اسلام اسے قطعاً حرام قرار دیتی ہے پیس اب وہ جو کچھ بھی