سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 11

kk کریں گے اس سے جماعت میں تفرقہ پیدا کریں گے میرا دل اس تفرقہ کو دیکھ کر اندر ہی اندر گھلا جاتا ہے اور میں اپنی جان کو پگھلتا ہوا دیکھتا ہوں رات اور دن غم و رنج سے ہم صحبت ہوں اس لئے نہیں کہ تمہاری اطلاعات کا ئیں شائی ہوئی بلکہ اس لئے کہ جماعت میں کسی طرح اتحاد پیدا ہو جائے۔لیکن میں اس کے ساتھ ہی کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا جو عہدۂ خلافت کی ذلت کا باعث ہو۔وہ کام جو خدا نے میرے سپرد کیا ہے خدا کرے کہ عزت کے ساتھ اس سے عہدہ برآ ہو سکوں اور قیامت کے دن مجھے اپنے موئے کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔اب کون ہے جو مجھے خلافت سے معزول کر سکے یہ خدا نے مجھے خلیفہ بنایا ہے اور خدا تعالے اپنے انتخاب میں غلطی نہیں کر سکتا اگر سب دنیا مجھے مان نے تو میری خلافت بڑی نہیں ہو سکتی اور اگر سب کے سب خدا نخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آسکتا۔جیسے نبی اکیلا بھی نبی ہوتا ہے اسی طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلے کو قبول کرے۔خدا تعالیٰ نے جو بو مجھ مجھے پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اسی کی مدد میرے شامل حال نہ ہو تو میں کچھ بھی نہیں کر سکتا۔لیکن مجھے اس پاک ذات پر یقین ہے کہ وہ ضرور میری مدد کرے گی میرا فرض ہے کہ جماعت کو متحد رکھوں اور انہیں متفرق نہ ہونے دوں۔اس لئے ہر مشکل کا مقابلہ کرنا میرا کام ہے اور انشاء اللہ آسمان سے میری مدد ہو گی۔میں اس اعلان کے ذریعہ ہر ایک اس شخص پر جو ابتک سبعیت میں داخل نہیں ہوا یا بعیت کے عہد میں متردد ہے۔ججوت