سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 72

دوم - اہل پیغام کو ایک دفعہ پھر عمدہ پیرایہ میں اختلافات چھوڑ کر باہمی اتحاد کی دعوت دی جائے اس کے لئے تجویز ہوئی کہ اہل پیغام کی بڑی بڑی شخصیتوں مثلاً مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے۔ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب۔ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب وغیرہ کو خصوصی ایلچی بھیج کر بعد احترام و تاکید دعوت پر بلایا جائے اور حضرت خلیفہ ایسے ایک مرتبہ خود ان کے سامنے اختلافی مسائل پر گفتگو فرما کہ اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کو واپس آنے کی ترغیب دیں۔سوھ - ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا جائے جس میں لاہور کے ہر طبقے ہر حلقے اور ہر ندید وملت کی نمائندگی ہو اور معززین شہر خاص طور پر مدعو ہوں۔اور اس موقعہ حضرت خلیفہ ایسیح خود انہیں اپنی زبان مبارک سے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ان تجاویز نے عملاً لا ہور کی آبادی کے ہر طبقہ اور ہر حلقہ پر اثر ڈالا۔اور جیسا کہ حضور کا ارشاد تھا تمام جماعت لاہور منتظم طریق پر تبلیغ میں مصروف ہو گئی اور لاہور شہر میں نہیں تبادلہ خیالات کی سینکڑوں دلچسپ مجالس قائم ہوئیں۔دوسری طرف تجویز ۲۰ کو عملی جامہ پنانے کے لئے مبارک منزلی لاہور میں ایک دعوت کا اہتمام کیا گیا۔اور اہل پیغام وغیر مبانین) کے رہنماؤں کو فردا فردا دعوت دی گئی کہ وہ در جولائی بعد نماز مغرب اس دعوت طعام میں شریک ہو کر شکریہ کا موقع دیں۔اس میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ متنازعہ فیہ مسائل کے متعلق بے تکلفانہ اپنے خیالات کا اظہار فرمائیں گے۔افسوس ہے کہ کسی بھی قابل ذکر غیر مبائع رہنما نے اس دعوت کو قبول نہ کیا۔البتہ ڈاکٹر محمد حسین شاہ صاحب نے جو ایا یہ پیشکش کی کہ صرف حضرت صاحب کی تقریر رکھنے کی بجائے دو تقریریں رکھی جائیں تو غور ہو سکتا ہے۔ایک تقریر آپ کے امام کی ہو اور ایک جوابی تقریر ہمارے امیر مولوی محمد علی صاحب کی۔ڈاکٹر صاحب کی اس تجویز کو رو کرنے کی سجائے اس کا فوری جواب دیا گیا۔اور بعض شرائط کے ساتھ اس طریق کو قبول کر لیا گیا۔نتیجہ اس مسئلہ پر دو طرفہ خط و کتابت کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا اس تمام خط و کتابت کا کسی قدر تفصیل کے ساتھ تذکرہ الفضل ۲۵ جولائی شاہ میں درج ہے رفته رفته تقریروں کی تجویز مناظرہ میں تبدیل ہوگئی اور مناظرہ کی شرائط بھی کم وبیش طے پاگئیں لیکن آخر پر اہل پیغام نے یہ عذر پیش کیا کہ جب تک ان کی مجلس عاملہ اس مسئلہ پر کوئی فصیلہ