سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 71
سے بھی اچھا نہ نکلا۔اس واقعہ کے کئی سال کے بعد ایک خطبہ میں حضرت خلیفہ ایسیح الثانی منی اللہ تعالی عنہ نے اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ خلیفہ وقت کا احمدی طالب علموں کے پاس ٹھہرنا در حقیقت کسی پہلو سے بھی ان کے لئے نقصان کا موجب نہیں تھا بلکہ ہر پہلو سے برکت ہی کا موجب تھا۔پس تم اس وقت سے پہلے اور بعد کے طلباء کے نتائج پر نظر ڈال کر دیکھ لو۔جب تک میں احمدیہ ہوسٹل میں ٹھہرتا رہا۔بظاہر طلباء کا وقت ضائع ہو جانے کے باوجود وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے طالب علم ثابت ہوئے اور ان کے تعلیمی نتائج نہایت شاندار تھے لیکن اس اعتراض کے بعد جب سے میں نے رہائش ترک کی ہے دینی لحاظ سے جو نقصان پہنچا وہ تو الگ ہے تعلیمی لحاظ سے بھی حالت پہلے سے بہت گر گئی ہے اور نتائج کا معیار قابل افسوس ہے۔یہ واقعہ لکھنے سے مقصد یہ ہے کہ احمدی نوجوانوں کے دلوں میں خلیفہ وقت کی حقیقی عظمت قائم ہو اور وہ جان لیں کہ خلافت احمدیہ اپنے ساتھ بعض ایسی برکات رکھتی ہے جن کو منطقی موشگافیوں کے پیمانے سے نہیں ناپا جاسکتا اور خلافت پر بعض اوقات اوئی اعتراض بھی بہت سی دینی و دنیوی برکتوں اور سعادتوں سے محرومی کا باعث بن جاتا ہے۔سفر لاہور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے بعض سفروں کی مختصر رویداد پہلی جلد میں قارئین کی نظروں سے گذر چکی ہے۔ان سفروں کی روئداد پڑھتے ہوئے انسان خصوصیت سے یہ بات محسوس کرتا ہے کہ آپ کا کوئی سفر بھی تبلیغی مصروفیات اور دینی مشاغل کے بغیر نہیں تھا تبلیغ اور تعلیم و تربیت کے کام ہمیشہ ساتھ ساتھ جاری رہتے۔1912ء میں بھی آپ کو کئی سفر پیش آئے۔جن میں سفیر لاہور خاص اہمیت رکھتا ہے اس سفر میں آپ نے لاہور پہنچتے ہی جماعت کو ایک سند نکاتی پروگرام دیا جو حسب ذیل تھا :۔اول - تمام احمدی احباب جو وعظ و تبلیغ کا ملکہ رکھتے ہیں ایک ہی شام مقررہ اوقات میں لاہور سے محلے محلے میں دل نشین پیرایہ میں احمدیت کا پیغام پہنچانا شروع کر دیں۔اور یہ کام اس زور و شور اور لگن کے ساتھ ہو کہ شہر لاہور اس کا نوٹس لئے بغیر نہ رہ سکے۔کھلی گلی کوچے کوچے میں احمدیت کا ذکرہ چل پڑے اور دلوں میں احمدیت کے لئے بکثرت جستجو پیدا ہو جائے۔