سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 322 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 322

۳۲۲ چاہی۔اور اجازت ملنے پر اپنی بنگالی اردو میں ایک پُر جوش تقریر کی۔قاری صاحب نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گو میرے بیٹے مولوی حاصل ارمین اور مطیع الرحمن (متعلم بی اے کلاس نے مجھ سے کہا نہیں مگر میں نے اندازہ کیا ہے کہ حضور نے جو کل راجپوتانے میں جا کر تبلیغ کرنے کے لئے زندگی وقف کرنے کی تحریک کی ہے اور جن حالات میں وہاں رہنے کی شرائط پیش کی ہیں شاید ان کے دل میں ہو کہ اگر وہ حضور کی خدمت میں اپنے آپ کو پیش کریں گے تو مجھے جو ان کا بوڑھا باپ ہوں تکلیف ہو گی۔لیکن میں حضور کے سامنے خدا تعالے کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ مجھے ان کے جانے اور تکالیف اٹھانے میں ذرا بھی غم یا رنج نہیں۔میں صاف صاف کہتا ہوں کہ اگر یہ دونوں خدا کی راہ میں کام کرتے ہوئے مارے بھی جائیں تو اس پر ایک بھی آنسو نہیں گراؤں گا۔بلکہ خدا تعالے کا شکر ادا کروں گا۔پھر یہی دونوں نہیں میرا تیسرا بیٹا محبوب الرحمن بھی اگر خدمت اسلام کرتا ہوا مارا جائے اور اگر میرے دس بیٹے ہوں اور وہ بھی مارے جائیں تو بھی میں کوئی غم نہیں کروں گا۔شاید یہ خیال ہو کہ بیٹوں کی تکلیف پر خوش ہونا کوئی بات نہیں۔بعض لوگوں کو ایسی بیماری ہوتی ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کی موت پر بھی ہنستے ہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ اگر میں بھی خدا کی راہ میں مارا جاؤں تو میرے لئے بین خوشی کا باعث ہوگا۔میں جانتا ہوں کہ ریا اور نمود ہلاکت کی باتیں ہیں اس لئے یکیں حضور سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کو ریا اور عجب سے کہ ایمان کے لئے زہر ہیں بچائے اور مجھے اخلاص عطا فرمائے۔بنگالی لوگ دل کے مضبوط نہیں ہوتے مگر مسیح موعود پر ایمان لانے سے ہم لوگوں کے قلوب قوی ہو گئے ہیں