سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 323 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 323

اور ایمان نے ہماری کمزوری کو دور کر دیا ہے یا نہ ایسی کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں کہ جن کے پاس دینے کے لئے کچھ نہیں تھا۔انہوں نے پنے مکان یا زمین یا اثاثے بیچ کر اس جہاد میں حصہ لیا۔ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے پاس صرف ایک بھینس تھی وہی اونے پونے پر بیج دی اور اگر چہ سودا گھانے کا تھا مگر بڑی خوشی سے اس کا ذکر کرتے تھے کہ وقت پر گاہک تل گیا۔بعض غرباء نے خطوط کے ذریعہ اجازت طلب کی کہ جو کچھ بھی ان کے پاس ہے فروخت کر کے زاد راہ بنائیں اور میدان جہاد میں پہنچ جائیں۔زیره فیروز پور کے ایک غریب دوست علی شیر صاحب نے حضور کی خدمت میں لکھا:- آپ کا حکم سنا۔میں ایک غریب آدمی ہوں حضور کی شرائط قبول کر نیچے نا قابل ہوں جس کا مجھے افسوس ہے۔چالیس روپے کا مقرون ہوں مگر ایک مکان ہے اگر حکم ہو تو اس کو فروخت کرنے یا رہن رکھ کے میدان ارتداد میں جلد ہی چلا جاؤں۔خاکسار علی شیر- زیره فیروزپوریان عورتوں میں بھی مسجد برلن کے چندہ کی ذمہ داری کے باوجود بے حد جوش تھا وہ اپنے کپڑے اور ڈوپٹے وغیرہ اپنی ملکانہ بہنوں کے لئے تحفے کے طور پر بھجوا رہی تھیں چھوٹی چھوٹی ہوار بچیاں بھی اس کار خیر میں حصہ لے رہی تھیں۔ہماری ہمشیرہ امتہ القیوم بیگم جو ہمارے عم زاد ایم ایم احمد سابق وزیر خزانہ حکومت پاکستان کی اہلیہ ہیں۔ان دنوں چھ سال کی تھیں۔انہوں نے بھی اپنا ایک چھوٹا سا ڈوپٹہ پیش کر دیا کہ کسی چھوٹی ملکائی کو دے دیا جائے عمو گا دوسری احمدی بچیوں کا بھی یہی حال تھا۔اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی اپنی مجلسوں میں میٹھے ملکانے کی باتیں کیا کرتے تھے۔احمدی خواتین کی جہاد کی تمنا صرف اسی بات میں محدود نہ تھی کہ مال وزر کے ذریعہ مجاہدین کی مدد کریں بلکہ سخت بے قرار تھیں کہ کسی طرح میدان کا راس میں خود پہنچ کر اس عظیم اسلامی جہاد میں حصہ لے سکیں۔بہن عمر بی بی نے آگرہ سے حضور کی خدمت میں لکھا :- حضور میں صرف قرآن مجید جانتی ہوں اور تھوڑا سا اُردو۔اپنے بیٹے سے سنا ہے کہ مسلمان مرتد ہو رہے ہیں اور حضور نے وہاں جانے کا حکم دیا ہے مجھے بھی اگر حکم ہو تو فورا تیا ر ہو جاؤں۔بالکل ه اخبار الفضل ۵ در تاریخ ۱۹۲۳ء ملا له کارزارشت تھی مصنفہ ماسٹر محمد شفیع صاحب التسلم محرم -