سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 317 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 317

کی طرف جماعت کو بلاتا تو دلوں کی عجیب کیفیت ہو جاتی۔جوشِ خدمت سے سینے پھٹنے لگتے۔اور دل اچھل اچھل کر دین محمد پر نچھاور ہونے کے لئے ہنسلیوں سے سڑسکرانے لگتے۔جماعت والہانہ اس کے پیچھے دوڑ پڑتی۔اور ہر احمدی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتا۔جو کمزور تھے گرتے پڑتے گھسٹتے قربان گاہوں کی طرف روانہ ہو جائے اور جو لا چار اور معذور تھے وہ زبان حال سے یہ درد ناک گیت الا پا کرتے۔وہ خوش قسمت ہیں اُس مجلس میں جو گر پڑ کے جاپہنچے کبھی پاؤں پہ سر رکھا کبھی دامن سے جانیئے مرے ہمرازہ پر وہ پرشکستہ کیا کریں جن کے ہوا میں اُڑ گئے نالے گئیں بے کار فریا دیں جس رنگ میں آپ نے اس تحریک کو جماعت احمدیہ میں چلایا اور آریہ سماج کے مقابلے میں مٹھی بھر فدائیوں کو ایک عجیب شان ایمانی کے ساتھ صف آرا کیا۔یہ سرگزشت تاریخ احمدیت میں ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔سب سے پہلے تو آپ نے کام کا ایک باقاعدہ منصوبہ تیار کیا۔اور فوری طور پر حالات کا جائزہ لینے کے لئے بعض ذہین تعلیم یافتہ نوجوانوں کو ملکانہ کے علاقے میں روانہ کیا اس کے بعد خطبات اور تقاریر کے ذریعہ جماعت کو اس مسئلہ کی نوعیت سے پوری طرح آگاہ کیا۔مشکلات سے خبردار کیا۔خوب اچھی طرح واضح کر دیا کہ ایک انتہائی طاقتور دشمن کا سامنا ہے تو کیا بلحاظ جمعیت اور کیا بلحاظ مال و دولت اتنا بڑا ہے کہ دنیوی لحاظ سے جماعت احمدیہ کو اس سے کوئی نسبت نہیں۔اس کے بعد اسلام کے دورہ اول کے مسلمان مجاہدین کی عظیم قربانیاں یاد دلاکر ان کے دلوں میں ایک ایسی ہلچل مچادی کہ بڑے اور چھوٹے مرد اور عورتیں ، جوان اور بچے سبھی اپنا سب کچھ اسلام کے لئے قربان کرنے کو تیار ہو گئے۔لیکن آپ نے ان کے ان جذبات کو بے محابا سڑکوں پر بے لگام نہ ہونے دیا۔اور عوامی مظاہروں کی صورت میں ان کے دلولوں کو ضائع ہونے کی اجازت نہ دی۔قادیان کی گلیوں میں پر جوش نعروں کی کوئی آواز بلند نہ ہوئی۔اور آریہ سماج کے خلاف دشنام طرازی کی کوئی مہم نہ چلائی گئی البتہ قوم عزم صمیم کا پیکر بنی ہوئی عمل پیم کے لئے تیار ہو گئی۔سب سے پہلے آپ نے جماعت کی توجہ کا رُخ دعا کی طرف پھیرا اور ان پر خوب واضح کر دیا کہ دُعا کے بغیر -