سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 316
آج جرمنی میں خدمت اسلام کا ایک نیا اور وسیع میدان کھلا ہے جس کے تقاضوں کو کسی قیمت پر نظر اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔جنگ عظیم کے بعد جرمن قوم میں نفسیاتی لحاظ سے ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ یورپ کے دیگر ممالک کی نسبت اس میں اسلام قبول کرنے کا امکان زیادہ روشن نظر آتا ہے۔نہیں آپ نے اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ جماعت پہلے ہی شدید مالی مشکلات میں گرفتار ہے مسجد برلن کی تعمیر کے لئے چندہ کی تحریک فرمائی اور احمدی مستورات کو اس بات کا پابند کر دیا کہ وہ پچاس ہزار روپے کی خطیر رقم مسجد برین کی تعمیر کے لئے خاصہ اپنے ذرائع سے پیش کریں اور اپنے خاوندوں سے کوئی مطالبہ نہ کریں۔یہ پابندی اس لئے تھی کہ واقعہ جماعت کے مردوں میں اس وقت مزید مالی بوجھ برداشت کرنے کی طاقت نظر نہ آتی تھی اور عورتوں سے یہ توقع تھی کہ وہ اپنے اندوختے اور زیورات فروخت کر کے اسلام کی اس اہم ضرورت کو پورا کر دیں گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔لیکن یہ ایک الگ انسان ہے جس کا کچھ ذکر اپنے محل پر کیا جائے گا۔فی الوقت اس کا ذکر محض اس لئے کیا گیا ہے کہ آج شد معنی کے حالات کا مطالعہ کرنے والا قاری یہ اندازہ کر سکے کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ملکانہ کے جہاد کے لئے میں جماعت سے پچاس ہزار روپے کا مطالبہ کیا وہ کن حالات میں سے گزر رہی تھی۔اور یہ مطالبہ اپنی ذات میں کیا قیمت اور کیا مقام رکھتا تھا یہ دونوں مطالبات جہاں ایک طرف آپ کے صاحب عزم ہونے پر دلالت کرتے ہیں وہاں اس بات کی بھی شہادت دیتے ہیں کہ آپ کو اپنے رب کے فضلوں اور نصرت پر غیر معمولی ایمان اور توکل تھا اور یقین تھا کہ یہ خدا ہی کے کام ہیں اور وہی ان کے پورا کرنے کے سامان کرے گا۔پس دنیا نے یہ عجیب معجزہ دیکھا کہ فاقہ کشوں کی اس جماعت نے اسلام کی ضرورت کو اپنی ضرورت پر ترجیح دی اور قربانی کے ہر مطالبہ پر پہلے سے بڑھ کر جوش اور صدق دل کے ساتھ لبیک کہا۔یقینا یہ خدا ہی کا فضل تھا لیکن فضل محمود کے ذریعہ ظاہر ہوا تھا۔جماعت کو خدا نے ایک ایسا عظیم رہ نما عطا کیا تھا کہ جو خدمت اسلام کے لئے ان فدائیوں کے خون کا ایک ایک قطرہ نچوڑ کر پیش کرنے کیلئے تیار تھا وہ ایک ایسار رہنما تھا جو قربانی کے ہر میدان کی طرف پہلے خود قدم بڑھاتا اور پھر جماعت کو اپنے پیچھے قدم بڑھانے کی دعوت دنیا۔اس کے کردار میں ایک عجیب بلندی تھی۔اس کی زبان میں ایک عجیب جادو تھا۔جب وہ خدمت اسلام کے لئے قربان گاہوں