سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 287 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 287

کام کام کرنے سے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اسے نمائندگان اسلام ! اس وقت جبکہ آپ نہایت سنجیدگی سے دولت عثمانیہ کے مستقبل پر غور کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔اور آپ کے دلوں میں غم اور فکر کا ہجوم ہے۔اس وقت ہندوستان کے مختلف گوشوں میں ناکردہ گناہ بیچتے اور بے قصور عورت میں اس شدت گرما میں اس قصور میں پیا ہے تڑپ رہے ہیں کہ ان کے والدین یا شوہر کیوں سلطان عظم کی خلافت کے قائل نہیں اور سلمان کہلانے والے لوگوں نے زہ معلوم کس کی سنت پر عمل کرتے ہوئے اس پانی سے بھی ان کو روک دیا ہے جس سے خدا تعالے کا فرسے کا فر انسان کو بھی نہیں روکتا۔اب آپ سوچیں کہ کیا اُن کی آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان کی چیخ و پکار خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلا کر اس بات کی درخواست کر رہی ہو گی کہ ان ہم پر ظلم کرنے والوں کے کام میں برکت دے اور ان کی مرادوں کو پورا کر۔۔۔۔۔۔۔۔محض اس اختلاف رائے پر کہ کیوں احمد می خلافت عثمانیہ کے قائل نہیں ان کو پانی سے روکا جاتا ہے۔ان کو خرید و