سوانح فضل عمر (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 389

سوانح فضل عمر (جلد دوم) — Page 286

اگر اس وقت میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو شیعہ اصحاب کو جو کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔علی الاعلان اس تحریک سے براءت کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔اور وہ بھی دوسرے بھائیوں کے ہم زبان ہو کر اس مسئلہ کے متعلق اپنی ہمدردی کا اظہار کر سکتے تھے کہتے پھر اپنے گذشتہ مشوروں کا جن کو رو کرنے کے نتیجہ میں بہت کچھ نقصان پہنچا تھا۔مختصراً ان الفاظ میں ذکر کیا :- "اگر میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو عرب کے وہابی فرقہ کو بھی کھلے طور پر اس مسئلہ میں دوسرے ممالک کے لوگوں کے ساتھ شریک ہونے میں کوئی اعتراض نہ ہوتا۔اور اگر میرا مشورہ قبول کر لیا جاتا تو یورپ کے لوگوں کو اس بات پر ہنسی اڑانے کا موقع نہ ملتا کہ مسلمان اپنے خلیفہ کی حفاظت کی اپیل عیسائی حکومتوں سے کرتے ہیں۔اور اگر اس کام کو تکمیل پر پہنچانے کے متعلق جو بات میں نے لکھی تھی اُس پر عمل کیا جاتا تو یقیناً شرائط صلح موجودہ شرائط سے مختلف ہوتیں۔وفود کا بھیجا جانا اس قدر معرض التواء میں ڈالا کہ عمل کا وقت ہاتھ سے جاتا رہا۔امریکہ کی طرف گوئی وند نہیں بھیجا گیا۔عراق، شام، عرب اور قسطنطنیہ کی طرف وفد بھیجے جانے ضروری تھے۔مگر اس کا کچھ خیال نہیں کیا گیا۔فرانس اور اٹلی کی طرف مستقل و فدوں کی ضرورت تھی مگر اس کی طرف توجہ نہیں کی گئی۔جاپان بھی توجہ کا مستحق تھا اُسے بھی نظر انداز کیا گیا۔انگلستان کی طرفت و فد گیا اور وہ بھی آخری وقت ہیں۔ساری کوشش ہندوستان کی گورنمنٹ کو برا بھلا کہنے میں یا ان لوگوں کو گالیاں دینے میں صرف کر دی گئی جو گو ترکوں سے ہر طرح ہمدردی رکھتے تھے مگر سلطان المعظم کو خلیفہ تسلیم نہیں کرتے تھے۔مگر کیا گالیاں دینے سے کام ہوتے ہیں۔سه راخبار الفضل قادیان ، جون ۱۹۲۰ء ص۳)