سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 346 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 346

العالم سلام دی جائے۔میں نے عرض کیا کہ آپ اب بادشاہ ہیں جیسے چاہیں تجویز کریں۔اس پر مولوی صاحب نے کہا اچھا ہم تم کو جلا وطن کرتے ہیں۔اس کے تھوڑے عرصہ بعد حضرت صاحب کی وفات ہو گئی اور مولوی صاحب خلیفہ ہو گئے۔پھر دوسری دفعہ میں نے خواب دیکھا کہ ہم پھر گرفتار کئے گئے ہیں اور مثل سابق ہماری پیشنی بادشاہ کے سامنے ہوئی۔اس دفعہ مولوی صاحب نے فرمایا تم نے دوبارہ بغاوت کی ہے۔ہم حکم دیتے ہیں کہ تمہارا سرکاٹ ڈالا جائے۔چنانچہ اس حکم کی تعمیل میں مجھے ایک ایسے ہی ہوتے پر لٹا دیا گیا جیسا اس تصویر میں تھا اور جلاد نے کلہاڑی میری گردن پر چلائی جس سے میں سخت خوفزدہ ہو کر بیدار ہو گیا۔اور بیدار ہو کر بھی بہت عرصہ اس خواب کی دہشت اور ہیبت مجھ پر طاری رہی۔اب جو میں نے وہی نظارہ تصویر میں دیکھا تو ویسے ہی میری طبیعت پر خوف طاری ہو گیا اور میں اس کی برداشت نہ کر سکا۔" جیسا کہ مریم خواجہ صاحب کی رویات سے واضح ہے آپ اور آپ کے ہم خیال رفقا کی بطور سرزنش قادیان سے علیحدگی مقدر تھی چنانچہ بعینہ اس تنبیہ کے مطابق خلافت ثانیہ کے آغاز کے تھوڑے عرصہ کے اندر ہی یہ لوگ قادیان چھوڑ کر چلے گئے اور لاہور میں اس مقام پر جو احمد یہ بلڈنگس کے نام سے مشہور ہے۔احمدیت " کے ایک نئے مرکز کی بنا ڈالی۔لیکن یہ گمان کرنا بھی درست نہیں کہ اس گروہ کی علیحدگی کے بعد انکار خلافت کا فتنہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا جیسا کہ بعد کی تاریخ بتائے گی مختلف وقتوں شکلوں میں یہ فتنہ بعد میں بھی سر اٹھاتا رہا لیکن جماعت کی بہت بھاری اکثریت اس سے اس حد تک متنبہ اور خبر دار ہو چکی تھی کہ پھر کبھی اسے وبا کی صورت میں پھیلنے کی توفیق نہ ملی۔ہاں اکا دُکا کمزور طبیعتوں کی ہلاکت کا موجب بن کر یہ پھر اپنی کمین گاہوں میں جا چھپتا رہا۔ایک موعود صلح کی حیثیت سے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے تمام کارناموں پر یکجائی نظر ڈالی جائے تو آپ کا یہ کارنامہ بلاشبہ ایک امتیازی شان اور دلر با چمک کے ساتھ نظر کو اپنی جانب کھینچے گا کہ آپ نے بفضلہ تعالیٰ احمدیوں کے قلوب میں خلافت کی عظمت اور اہمیت کو ہمیشہ کے لئے واضح اور جاگزیں اور راسخ کر دیا اور اختلاف اور افتراق کے فلسفہ اور محرکات کو بار بار ایسی وضاحت کے ساتھ اور لے ماہنامہ الفرقان سالنامه - نومبر دسمبر ۱۹۲۳ ص ۴۲ - ۴۵