سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 345 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 345

۳۴۵ 1 خواجہ صاحب اور میں ایک دفعہ سینما میں ملکہ الز ہتھے کا ڈرامہ دیکھنے کے لئے گئے۔اس میں ایک منتظر یہ تھا کہ ارل آف ایسیکس کو بغاوت کے جرم میں موت کی سزا ملتی ہے۔ایک لکڑی کے چبوترے پر جلاد کلہاڑی لئے کھڑا ہے۔ایسیکس کو اس چبوترے پر لٹا دیا گیا اور اس نے اپنا سرلکڑی کے ایک بلاک پر رکھ دیا۔جو نہی جلاد نے تصویر میں کلہاڑی اُٹھائی کہ الیکس کا سر قلم کر دے تو خواجہ صاحب سخت دہشت زدہ ہو گئے اور نہایت اضطراب کی حالت میں مجھ سے کہنا شروع کیا کہ اُٹھو جلدی اُٹھو، یہاں سے نکل جائیں۔چنانچہ میں بھی خواجہ صاحب کی حالت دیکھ کر گھبرا گیا اور اُن کے پیچھے پیچھے باہر نکل آیا۔باہر نکل کر خواجہ صاحب نے مکان کا رستہ تو نہ لیا۔ایک ایسی سٹرک پر سراسیمگی کی حالت میں چلتے گئے جو دریا۔پر یار ایک بھلے علاقہ کی طرف جاتی تھی۔کوئی نصف میل تک جا کر ان کی طبیعت سنبھلی تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا تم کیا سمجھے میری پریشانی کی کیا وجہ تھی ؟ میں نے کہا مجھے تو یہی خیال ہوتا ہے کہ شاید آپ کو سڑی سے کچھ تکلیف ہو گئی۔خواجہ صاحب نے کہا نہیں مجھے سردی سے تو اس ملک میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی ہیں تو اس منظر کو دیکھ کر ڈر گیا تھا۔کیونکہ مجھے اپنا ایک خواب یاد آ گیا تھا۔خواجہ صاحب نے کہا کہ یہ اُن دنوں کا ذکر ہے جب متی شاہ میں حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام ہمارے مکانوں میں لاہور ٹھہرے ہوتے تھے۔میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے اور مولوی محمد علی اور تین چار اور لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ہم سے کہا گیا ہے کہ تم لوگوں نے بغاوت کی ہے تمہیں بادشاہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔چنانچہ ہمیں ایک ایسے کمرے میں لے جایا گیا جو چیف کورٹ کے فرسٹ پہنچ کے کمرے کی طرح ہے اور اس کے ایک طرف ایک چبوترے پر ایک تخت بچھا ہوا ہے جس پر بادشاہ بیٹھا ہے۔میں نے غور سے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ بادشاہ مولوی نور الدین صاحب ہیں۔انہوں نے ہم سے مخاطب ہو کر کہا تم نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے بتاؤ تمہیں کیا سترا