سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 347

ا م بم جماعت کے سامنے رکھا کہ نظام خلافت کو سبوتاثر کرنے کے لئے جب بھی اور جس لباس میں بھی کے سامنے کھا کو کرنے کے لئے اور کوئی تحریک اٹھی جماعت نے بلا توقف اسے پہچانا اور سختی سے رد کر دیا۔بعد میں اٹھنے والے اس نوع کے دوسرے فتنوں پر تفصیلی بحث کا یہاں موقع نہیں۔لیکن چونکہ مومنین کی تطہیر اور آزمائش کے لئے آئندہ بھی اس قبیل کے فتنوں کا وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہنا متقدر معلوم ہوتا ہے اس لئے خصوصاً احمدیت کی نئی نسل کی تعلیم کی خاطر اگر یہاں اس کا مختصر تجزیاتی مطام پیش کر دیا جائے تو بے فائدہ نہ ہو گا۔حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کے دور میں جو انکارِ خلافت کا فتنہ اُٹھا اس کے نقوش کے بغور مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذہبی دنیا میں رونما ہونے والا کوئی نیا اور الگ فتنہ نہیں تھا بلکہ انہی جماعتوں کی تنظیم کو کمزور کرنے اور مرکزیت کو پراگندہ کرنے کے لئے ہمیشہ مذہبی دُنیا میں اسی شکل وصورت کے فتنے برپا ہوتے رہے ہیں اور آئندہ بھی تا قیامت برپا ہوتے رہیں گے۔ذیل میں شق وار اس کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے :- غمن امام وقت پر آمریت کا الزام حضرت خلیفة المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ پر ایک خطرناک اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ آپ جماعت پنا حکم ٹھونس کر آمرین بیٹھے ہیں اور جماعت کے جمہوری نظام کو آمریت میں تبدیل کر رہے ہیں۔اس ہیں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ قرآن کریم کی شہادت کے مطابق گزشتہ انبیاء علیهم السلام پر بھی اسی قسم کے اعتراض کئے گئے بلکہ حضرت شعیب علیہ السلام کی جمہوریت پسند قوم نے بلکہ تو آپ کے انکار کی ایک بڑی دلیل یہ پیش کی کہ ہم اپنے معاملات میں تمہارے حکم کے تابع کیسے ہو سکتے ہیں۔اسی طرح تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ مدینہ کے یہودی اور منافقین خود سید ولد آدم حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی اعتراض کرتے اور اہل مدینہ کو اس بنا پر بددل کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ نعوذ باللہ اسلام کا رسول آمرہ بننے کی کوشش کرتا ہے۔لیس یہ جمہوریت کی رٹ کوئی نئے زمانہ کی پیدا وار نہیں نہ ہی جدید روشنی اور ترقی یافتہ تہذیب و تمدن سے اس کا کوئی تعلق ہے۔بلکہ جب سے خدا تعالیٰ کے مقرر کر دہ اولی الامر دنیا میں آرہے ہیں جمہوریت کے نام پر اُن کے خلاف بغاوت پر اکسانے کی کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔اگرچہ دنیوی آمر