سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 280

۲۸۰ حضرت خلیفہ المسیح کا حکم تھا۔اس لئے ہفتہ کو قصور کی طرف روانہ ہوا۔جہاں کے احمدیوں نے ایک جلسہ کیا تھا۔۱۲ار تاریخ کی شام کو جلسہ تھا، صبح کو وہاں پہنچا۔تھوڑی دیر تک لاہور اور فیروز پور کی جماعتوں سے بہت سے احمدی آدمی اور بھی وہاں آتے۔۔۔۔میرا مضمون یہاں تقویٰ پر تھا۔۔۔میں شام کو پھر روانہ دہلی ہوا۔وہاں دوبارہ میرے لیکچر کی تجویز ہوتی اور اب کے میرا لیکچر اسلام اور عیسائیت پر تھا۔اس کا بھی لوگوں پر اچھا اثر ہوا۔دری کی پبلک اس بات پر بہت حیران تھی کہ یہ لوگ آنحضرت صلی الله علیه واله وستم کی ہماری طرح ہی عزت کرتے ہیں۔اتوار کی شام کو ہم وہاں سے روانہ ہوئے۔میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس دردِ دل کا اثر تم پر بھی کرے جس سے میں نے یہ مضمون لکھا ہے۔کاش کہ تم لوگ واقف ہو کہ میں تمہاری خیر خواہی کے لئے کیا درد محسوس کرتا ہوں۔میں نے جو کچھ لکھا ہے، اسے جوش اور خیر خواہی سے لکھا ہے ورنہ میں تو ان لوگوں میں سے ہوں جو پکار پکار کر کہتے ہیں کہ إِنْ أَجْرِى إِلَّا عَلَى اللهِ والسلام خاکسار مرزامحمود احمد علی الله عنه حج بیت اللہ اور سفر مصر حضرت صاحبزادہ صاحب نے اپنی زندگی میں سینکڑوں سفر کتے لیکن بلا شبہ ان میں سہے زیادہ اہمیت اور روحانی عظمت کا حامل وہ سفر تھا جو آپ نے حج بیت اللہ کی غرض سے اختیار فرمایا اور جس سفر میں آپ کو ابلاغ حق کی سعادت بھی نصیب ہوتی۔ہم نے کوشش کی ہے کہ اس سفر کی روداد زیادہ سے زیادہ آپ کے اپنے الفاظ میں ہی پیش کی جائے۔البتہ آغاز سفر سے متعلق احباب قادیان کے جو جذبات تھے، اُن کی ترجمانی کی خاطر یہ مناسب سمجھا گیا کہ اخبار البدر کا ایک مختصر نوٹ ہدیہ قارئین کیا جائے۔لہذا اس تعارفی اقتباس سے ہم رو داد سفر کا آغاز کرتے ہیں :- حضرت صاحبزادہ صاحب کے لئے ایک الوداعی جلسہ میں احباب قادیان جمع ہوئے۔له الحكم ۱۴۰۷ رمتی شله ص ۳ تا ۹