سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 281
۲۸۱ حضرت خلیفہ المسیح بھی تشریف لائے پہلے صوفی غلام محمد صاحب بی۔اے نے قرآن شریف کی چند آیات خوش الحانی سے پڑھیں۔اس کے بعد محمود احمد پسر شیخ الحکم صاحب نے جلسہ کی غرض بیان کی۔۔۔اس کے بعد ماسٹر عبدالرحیم صاحب نے سورۃ فاتحہ کے بعد اپنی تقریر میں فرمایا :- حضرت خلیفہ المسیح کے ایام علالت میں ایک دن میں نے گھبرا کر بہت دُعا کی تو میں نے خواب میں حضرت خلیفہ المسیح کو دیکھا کہ میاں صاحب بشیر الدین محمود احمد کو پکڑے ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ یہ پہلے بھی اول تھے، اب بھی اوّل ہیں۔تب سے میری طبیعت میں ایک خاص تغیر نیکی کی طرف اور میاں صاحب کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کا ہے۔میاں صاحب اس پاک سر زمین مکہ اور مدینہ میں ہمارے واسطے دریائیں کریں۔اور انبیا کے مسکن بیت المقدس میں بھی ہمارے لئے دعائیں کریں۔مصر میں موسے نے فرعون کو غرق کیا تھا۔میاں صاحب بھی وہاں اپنی پاک نصایح پھیلا کر شیطان کو غرق کریں گے اور میرے لئے بھی دعا کریں۔" اس کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے کلمہ شہادت اور سورہ فاتحہ پڑھکر فرمایا و مسلمانوں میں رواج ہے کہ یہ کلمہ اور دعا میں خطبہ میں پڑھتے ہیں۔اور مسلمانوں کا پہلا کام یہی ہے۔اس میں خدا کے وجود کا اقرار۔اس کی توحید اور رسالت کا اقرار ہے اور اپنی کمزوریوں سے ڈر کر خدا کی پناہ اور اپنے تمام کاموں میں خدا کے نام اور خدا کی صفات کے جلال کے لئے اظہار کی دُعا اور توفیق دعا کے واسطے دُعا ہے۔اور منعم علیہ گروہ کا راستہ اپنے لئے مانگا گیا ہے اور اس کے واسطے استقامت کی خواہش کی ہے۔میرے اس سفر کے متعلق ممکن ہے کہ میرے دل میں بھی مانگیں ہوں کہ میں بڑی بڑی دینی خدمات کروں گا۔اور میرے دوستوں کے دل میں بھی ایسے ہی خیالات ہیں۔مگر سب باتیں اللہ ہی کے اختیار میں ہیں۔اس کے فضل کے سوائے کچھ ہو نہیں سکتا۔اُسی کا ایک ڈر ہے، جس کے بالمقابل سب در ایچ ہیں۔اس واسطے ہم سب کو ایک دوسرے کے واسطے دعائیں کرنی چاہئیں یہی کامیابی کی چابی ہے۔میں اپنے دوستوں اور بزرگوں کی خدمت میں بھی یہی عرض کرتا ہوں کہ سب میرے واسطے دعائیں کریں یہی بڑا تحفہ اور بڑی مدد ہے۔میرے دل میں مدت سے خواہش تھی کہ مکہ معظمہ