سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 268 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 268

پریل کی شام کو کانپور میں حضرت صاحبزادہ صاحب کا ایک پبلک لیکچر طلائی محل کے میدان میں ہوا جو آپ کی قیام گاہ کے نزدیک تھا۔لیکچر کے وقت لوگوں کا ایک نجوم امڈ آیا اور سیر گاہ بالکل بھر گئی اور بہت سے لوگوں کو کھڑا ہونا پڑا۔کوئی اڑھائی ہزار کے قریب مجمع ہو گا۔سب سے پہلے مولوی عبد الحمی عرب صاحب نے تلاوت کی۔پھر حافظ روشن علی صاحب کی مختصر سی تقریر ہوئی۔اس کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور گو بنارس میں کثرت سے بولنے کی وجہ سے طبیعت علیل تھی مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایسی غیر معمولی تائید و نصرت فرمائی کہ آپ نے ایک جدید اور اچھوتے رہنگ میں احمدیت کی تبلیغ کی جسے سن کر سب مسعور ہو گئے۔دو اڑھائی گھنٹے تک آپ کی تقریر ہوئی۔تقریر کے بعد جو نہی آپ بیٹھے تو لگ اپنی جگہ پر یہ سمجھ کر جمے رہے کہ شاید سانس لینے کے لئے بیٹھے ہیں آخر اعلان کیا گیا کہ لیکر تی ہے۔اس پر سامعین نے بآواز بلند کہا کہ بہت سے لوگ مصافحہ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ وہ لوگ جو دن کے وقت ایک گفتگو کے دوران میں آپ کے منہ پر کا فرکہ کے گئے تھے۔بڑھ بڑھ کر مصافحے کرنے لگے۔کانپور کے شرفا نے مزید قیام اور لیکچر کی درخواست کی۔مگر آپ نے فرمایا کہ۔اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں نہیں ڈالا ہے کہ اب میں یہاں سے روانہ ہو جاؤں۔یہاں سے روانہ ہو کر دوسرے دن آپ شاہجہان پور پہنچے اور حافظ سید مختار احمد صاحب کے مکان پر قیام فرمایا۔انہی کی تحریک پر آپ نے صبح کے وقت ایک ایسا پر اثر خطاب فرمایا کہ مولوی سراج الدین خانپوری صاحب نے اس کی افادیت کے پیش نظر اس کی فوری اشاعت کی تحریک کرتے ہوئے اپنی طرف سے کچھ رقم بھی پیش کی۔۲۰ را پریل کو یہ وقد رام پور پہنچا جہاں خانصاحب ذوالفقار علی خان اور مولوی عبید اللہ صاحب سجل آپ کے خیر مقدم کے لئے موجود تھے۔رام پور میں آپ نے مدرسہ عالیہ دیکھا۔۲۲؍ اپریل کو آپ و قد سمیت امروہ پہنچے۔اسٹیشن پر مولوی سید محمد احسن صاحب امروہوی اور دوسرے احباب جماعت نے پر جوش استقبال کیا۔حضرت صاحبزادہ صاحب نے یہاں بھی ایک مختصر سی تقریر فرمائی۔ر اپریل کو وفد دہلی پہنچا اور مدرسہ حسین بخش ، مدرسہ عبد الرب اور مدرسہ فتح پوری دیکھا۔۲۵ اپریل کو دارالعلوم دیوبند دیکھنے کے لئے گئے جمعیتہ الانصار کے سیکرٹری مولوی عبید اللہ صاحب سندھی کے ذریعہ سے دارالعلوم دیوبند کے صدر مولانا محمود الحسن صاحب اور دوسرے بزرگ علما سے طلاقات ہوئی۔مدرسہ کا معائنہ کرنے اور مدرسہ کے متعلق ضروری معلومات حاصل کرنے کا موقع ملا۔مهتم مدرسه مولوی محمد احمد صاحب خلف الرشید مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بڑے اخلاق اور مروت سے