سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 269
پیش آئے لیکن بعض جو پہلے علما نے مخالفت بھی کی اور جوش تنصیب میں مولانا سید سرور شاہ صاب کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے دیو بند میں ایک احمدی میاں فقیر محمد صاحب رہتے تھے، اُن سے بھی ملاقات ہوئی۔دیو بند کی عظیم اسلامی درسگاہ دیکھنے کے بعد آپ اپنے ساتھیوں سمیت سہارنپور تشریف لے گئے اور وہاں کا مشہور مدرسہ مظاہر العلوم دیکھا۔مولوی عنایت علی صاحب مہتمم مدرسہ جو ایک خوش اخلاق بزرگ تھے آخر تک ساتھ رہے۔اتفاق سے سہارنپور میں حافظ عبدالمجید صاحب منصوری آئے ہوئے تھے انہوں نے پورے ہند کو پُر تکلف چائے کی دعوت دی۔سہارنپور سے ۲۸ اپریل کی شام کو ہردوار پنجر سے آپ روانہ ہوئے اور اگلے دن ظہر سے قبل کامیاب و کامران قادیان پہنچ گئے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نہایت تپاک سے ملے۔بڑی خوشی کا اظہار فرمایا اور اگلی رات پورے وفد کے اعزاز میں ضیافت کا اہتمام فرمایا ہے آپ کے سفروں کا جو حال اب تک بیان ہوا وہ دیکھنے والوں یا ہمسفروں کے الفاظ میں تھا لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کہ دیکھنے والا خواہ کیسا ہی صاحب بصیرت کیوں نہ ہو وہ دوسرے کے دل میں اتر کر اس کے باریک در باریک جذبات اور اُن کی گنہ کو نہیں پہنچ سکتا۔یقیناً ایک مبصر کے بس کی بات نہیں کہ ذہنوں کے اندرونی گوشوں تک نفوذ کر کے افکار کی موجوں کا نظارہ کر سکے۔ان کیفیات کو تو دہی بیان کر سکتا ہے جس کے دل پر گزر رہی ہو۔یہ ایک طبعی امر ہے کہ سیر و تفریح کے وقت بدلتے ہوئے مناظر در اوقات اور نئے نئے مشاہدات ایک سیاح کے قلب و نظر پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ایک شاعر کا دل ان محرکات سے ایک رنگ میں متاثر ہوتا ہے تو ایک فلسفی کا ایک دُوسرے رنگ میں۔ایک بادشاہ کے خیالات کا دھارا ایک طرف مرتا ہے تو ایک فقیر کے خیالات کا دھارا ایک دُوسری طرف آیئے ہم دیکھیں کہ سیر و سیاحت نے حضرت صاحبزادہ صاحب کے قلب و ذہن میں کسی قسم کے احساسات اور افکار کو موجزن کیا ہے - 1915 ادم الحکم می باشد O