سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 18 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 18

JA اور احیاتے تو کے لئے گریہ وزاری کرنے لگے۔دوسرار و عمل یہ تھا کہ قرآن کریم کے گہرے اور پر فکر مطالعہ کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب عالم کا بھی گہری نظر سے مطالعہ فرمانے لگے اور اُن کی طرف سے اسلام پر وارد ہونے والے اعتراضات کا جائزہ لینے لگے۔اس لیے اور دقیق موازنہ اور مطالعہ نے آپ کو پہلے سے بھی زیادہ اس یقین پر قائم کر دیا کہ تمام مذاہب عالم میں صرف اسلام ہی ایک زندہ مذہب ہے جو پیروی کے لائق اور جامع کمالات خستہ ہے اور کل عالم اور تمام زمانوں کے لئے ہدایت کا سامان رکھتا ہے جب کہ دیگر مذاہب بھی اگر چہ ابتدا خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئے بھیجے گئے تھے مگر وہ محدود زمانوں کے لئے مخصوص اقوام کی ہدایت کے لئے نازل کئے گئے تھے اور اپنا اپنا مقصد وجود پورا کرنے کے بعد اب وہ ہے ضرورت اور بے فیض ہو چکے تھے۔ان کی کتابیں محترف و مبدل ہو گئیں، ان کی تعلیمات بگڑ گئیں، ان کا زمانہ عمل ختم ہوا اور ان کی مثال بچپن کے ایسے بوسیدہ اور ناقابل استعمال کپڑوں کی طرح ہے جو بالغ انسان کی ضروریات کسی طرح پوری نہیں کر سکتے۔مذاہب عالم کے اس تفصیلی موازنہ کا ماحصل حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی بیبیوں تصانیف میں موقع اور محل کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔اسی طرح آپ کے منظوم کلام میں بھی اس تحقیق کا نچوڑ بڑے دلکش پیرائے میں ملتا ہے جس کے چند نمونے ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں :- نور فرقاں ہے جو سب ٹوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مُرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا یا الہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دُکانیں تھیں مئے عرفاں کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا لے ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاتے یہ ثمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے ہم نے اسلام کو خود تجربہ کر کے دیکھا نور ہے گور انھو دیکھو سنا یا ہم نے اور دینوں کو جو دیکھا تو کہیں نور نہ تھا کوئی دکھلائے اگر حق کو چھپایا ہم نے تھک گئے ہم تو انہیں باتوں کو کہتے کہتے ہر طرف دعوتوں کا تیر چلا یا ہم نے نے برابین احمدیہ حصہ سوم ص ۲۷۴ مطبوعه ۱۸۸۳