سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 17

16 ۳۵ احمدیت کا مختصر تعارف اسلام کے لئے فکروں اور رنجوں اور پریشانیوں کا یہ وہ زمانہ تھا جس میں احمدیت کا نور طلوع ہوا او اسلام کے احیائے نو کی ایک عظیم تحریک منصہ شہود پر ابھری۔اس تحریک کے بانی حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام مسئلہ میں قادیان کی ایک گمنام بستی میں پیدا ہوئے جو مشرقی پنجاب کے ضلع گورداسپور میں بٹالہ سے بارہ میں مشرق میں واقع ہے۔بچپن ہی سے آپ کو اسلام اور بانی اسلام سے ایک بے پناہ خداداد عشق تھا اور عبادت الہی کا ذوق دل میں جاگزیں تھا۔مسجد سے آپ کو ایسی محبت تھی کہ بسا اوقات جب آپ کے والد سے آپ کے متعلق پو چھا جاتا کہ آپ کہاں ہوں گے تو وہ جواب دیتے کہ مسجد میں جا کر دیکھو کسی صف میں لیٹا پڑا ہو گا۔عبادت انہی کے ذوق کے علاوہ بنی نوع انسان کی گھرمی ہمدردی بھی بچپن ہی سے آپ کے کردار کا نمایاں حصہ تھی چنانچہ آپ کے سوانح نگار ہمیں بتاتے ہیں کہ اپنا کھانا اکثر گھر سے باہر لے جاتے اور غرباء اور مساکین کو اس میں شریک کرلیتے یہاں تک کہ بعض ایام میں سارا کھانا غرباء کو کھلا کر خود پیسے دو پیسے کے پنے خرید کر اس سے بھوک مٹا لیتے۔آپ کی بعد کی زندگی میں میں دو کر دار نمایاں ہوکر انبھرے جو آپ کی زندگی کے عظیم مشن کی حثیت اختیار کر گئے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- " میں دو ہی مسلے لے کر آیا ہوں۔اول خدا کی توحید اختیار کرو۔دوسرے آپس میں محبت اور ہمدردی ظاہر کرو۔وہ نمونہ دکھلاؤ کہ غیروں کے لئے کرامت ہوئی دی تھی جو حالیہ میں پیدا ہوئی تھی كُنتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ یاد من یا درکھو تألیف ایک اعجاز ہے یہ لے آغاز جوانی ہی میں آپ نے شدت سے یہ محسوس کیا کہ اسلام چاروں طرف سے دشمن کے نرغے میں گھرا ہوا ہے اور اس کے دفاع کی کوئی موثر کوشش اہل اسلام کی طرف سے نہیں کی جارہی۔اس احساس کے نتیجہ میں دو قومی رد عمل آپ کے دل میں پیدا ہوئے۔اول یہ کہ آپ پہلے سے بھی زیادہ انہماک اور دردمندی کے ساتھ عبادت انہی میں مصروف ہو گئے اور بارگاہ رب العزت میں مجھک کر اسلام کی فتح مندی ے ملفوظات جلد دوم صدام