سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 19
14 آزمائش کے لئے کوئی نہ آیا ہر چند ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے آؤ لو گو کہ یہیں نورِ خدا پاؤ گے تو تمہیں طور تلی کا بت یا ہم نے آج ان ٹوروں کا ایک زور ہے اس عاجز میں دل کو ان نوروں کا ہر رنگ دلایا ہم نے جب سے یہ نور بلانور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کے وجود اپنا ملایا ہم نے مصطفے پر ترا بے حد ہو سلام اور رحمت اس سے یہ اور لیا بار خدا یا ہم نے ربط ہے جان محمد سے میری جاں کو مدام دل کو وہ جام لبالب ہے پہلا یا ہم نے اس سے بہتر نظر آیا نہ کوئی عالم میں لاجرم غیروں سے دل اپنا چھڑایا ہم نے مورد قہر ہوتے آنکھ میں اغیار کے ہم جب سے عشق اس کا تہ دل میں بٹھایا ہم نے لے اس گہرے مطالعہ اور موازنہ مذاہب کے بعد جس کی بعض جھلکیاں مندرجہ بالا اشعارمیں ہمیں نظر آئی نہیں آپ اسلام کے ایک عظیم لطل جلیل کی حیثیت سے میدان عمل میں نکلے اور مہندومت اور عیسائیت کی طرف سے اسلام پر کئے جانیوالے اعتراضات کے نہایت مدل جوابات تحریر فرمانے میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔آپ نے صرف دفاع پرسی اکتفانہ فرمایا بلکہ حملہ آور مذاہب پر شدید جوابی حملے بھی کئے جس کے نتیجہ میں تھوڑے ہی عرصہ میں اسلام کے ایک پہلوان کی حیثیت سے آپ کا شہرہ ہندوستان کے طول و عرض میں پھیل گیا اور قادیان کے ایک گوشتہ تنہائی میں رہنے والایہ نوجوان افق مذہب پر ایک روشن چمکتے ہوئے ستارے کی طرح طلوع ہوا۔اسلام کی تائید میں جو عظیم لٹریچر آپ نے پیدا کیا اس کی تعداد ۵۰ ضخیم کتب و رسائل سے تجاوز کر گئی۔دیگر سینکڑوں اشتہارات اور مضامین ان کے علاوہ ہیں، لیکن اس ضمن میں آپ کی سب سے پہلی اور بنیادی حقائق پر مشتمل تصنیف براہین احمدیہ کے نام سے موسوم ہے۔یہ ایک معرکہ آنا رامہ اور انقلاب انگیز تصنیف تھی جس نے نکیسر میدان جہاد کا نقشہ پلٹ کر رکھ دیا اور مذاہب کے مابین لڑی جانے والی قلمی جنگ میں ایک نئے علم کلام کا اضافہ کیا۔اس تصنیف کا غیر معمولی اثر اپنوں اور غیروں پر پڑا جہاں دشمن سخت بر اساں اور پریشاں ہوا وہاں دوستوں کے دل خوشی سے بلیوں اچھلنے لگے کہ اسلام کا ایک بطل جلیل میدان مبارزت میں نکل آیا ہے۔مسلمانوں کے بجھتے ہوئے دلوں میں اُمید کی نئی شمعیں روشن ہونے لگیں۔ملک کے طول و عرض میں براہین احمدیہ کے محاسن اور کمالات پر زور دار تبصرے لکھے گئے جن میں مشہور اہلحدیث لیڈر مولوی ابوسعید ے آئینہ کمالات اسلام ص ۲۲۲ مطبوعه ۱۹۹۳مه