سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 230

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال پر حضرت صاحبزادہ صاحب نے جماعت کو پہلے سے بڑھ کر ایشیار قربانی محنت اور استقلال کے ساتھ اپنے عظیم مقصد کی پیروی کی جس احسن رنگ میں تلقین کر کی اس کا ایک نمونہ تشہید میں شائع ہونے والے متعدد طویل مضامین سے اخذ کردہ ایک مختصر اقتباس کی صورت میں پیش ہے : ہمارے ہادی اور رہنما خاتم النبيين محمد مصطفے صل اللہ علیہ وسلم نے جب اس کام کو پورا کرنے کا ارادہ کیا اور خدائے تعالیٰ نے اُن کو حکم دیا کہ وہ اسے انجام دیں تو مخالفت اور شرارت کی حد ہو گئی بلکہ اور اس کے اطراف کے لوگوں نے دس برس تک آپ کو وہ تکلیفیں دیں کہ الاماں ! الاماں نہیاں تک کہ بنی ہاشم سمیت آپ کو ایک پہاڑی میں تین سال تک محصور رہنا پڑا اور اہل ملک سے ہر قسم کے تعلقات ٹوٹ گئے اور آپ کے ہاتھ کسی قسم کا سودا بیچنا یا آپ سے ہمکلام تک ہونا ممنوع قرار دیا گیا۔چنانچہ طائف کا واقعہ جس میں آنحضرت پر پھر یہ سائے گئے اور آپ کا جسم مبارک سولمان ہو گیا اور آپ کے پیچھے شریر اور بدمعاش آپ کو دکھ دینے کے لئے لگاتے گئے ان تکالیف کی جو اس وقت بد معاشوں کے ہاتھوں آپ کو پہنچیں ایک کھلی مثال ہے۔اس کے علاوہ وہ تکالیف جو آپ کے صحابہ کو اس راہ میں پیش آئیں ایک سخت سے سخت دل والے انسان کو کینیا دینے کے لئے کافی ہیں۔اُن کو پیٹا گیا اور لوٹا گیا اور بے عززت و بے حرمت کیا گیا اور ہر قسم کے عذاب دیئے گئے۔صرف اس لئے کہ انہوں نے اسلام کو اختیار کیا تھا اور اس کے پھیلانے کے لئے اپنی جانیں بیچ دی تھیں۔وہ مستل کئے گئے اپنے گھر بار سے نکالے گئے اور وطن سے بے وطن ہوئے اُن کے بیچے اور اُن کی بیویاں اُن کی آنکھوں کے سامنے بے رحمی سے ماردی عمتیں اور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے آنحضرت کے ہاتھ پیر اس بات کا اقرار کیا کہ ہم خواہ کچھ ہو دنیا میں اسلام کی پاک تعلیم کو پھیلائیں گے چنانچہ قرآن شریف میں آتا ہے کہ • 44۔۔و وَمَا نَصمُوا مِنْهُمْ إِلا أَن يُؤْمِنو بِاللهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ ( البروج : 9) ه ) : ٩ می