سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 231 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 231

٢٣١ یعنی اُن سے دو شمنی نہیں کی گئی مگر اس لئے کہ وہ خدائے عزیز و حمید پر ایمان لاتے یعنی انہوں نے اسلام کی پیروی کی اور احادیث سے ثابت ہے کہ ایک دفعہ کفارہ مکہ نے آپس میں مشورہ کر کے نبی کریم کو کہلا بھیجا کہ ہم آپ کی ہر ایک بات کو ماننے کے لئے تیار ہیں مگر ہمارے بتوں کی برائی نہ کی جائے اور اس معاملہ میں خاموشی اختیار کی جائے مگر اس کا جواب نبی کریم نے یہی دیا کہ دنیا کی کوئی خواہش یا لالچ مجھے تبلیغ اسلام سے نہیں روک سکتے ہیں یہ تمام تکلیفیں جو نبی کریم یا صحابہ کو دی گئی تھیں۔اُن کی اصل غرض یہی تھی کہ اُن کو اسلام کی تبلیغ سے روکا جائے اور دین سے بنا کر دنیا کی طرف متوجہ کیا جائے پھر اس زمانہ میں ہی دیکھ لو کہ جب خدائے قادر نے حضرت مسیح موعود کو اس کام پر مامور کیا تو دنیا نے آپ سے کیسا سلوک کیا۔آپ وہی تھے کہ جن کو براہینِ احمدیہ کے شائع ہونے پر ہندوستان کے ہر گوشتہ کے لوگوں نے مجدد قبول کر لیا تھا اور ہر ایک مسلمان کی آنکھیں آپ پر لگی ہوئی تھیں اور سہر ایک دل اس امید سے پر تھا کہ ایک دن یہ مئے عرفان کا ساقی شراب محدت پلا کر تمام ہندوستان کو نشہ حقیقی میں مخمور کر دے گا۔لیکن جونہی خدائے تعالیٰ کی آواز نے آپ کے دل میں پکار کر کہا کہ سُن ! میں تجھے اسلام کی خدمت کے لئے مامور کرتا ہوں۔تو مسلمانوں اور دیگر قوموں کو ہدایت دے اور اُن کی آنکھوں کو کھوں تاکہ بجائے ایک سیاہ اور بدنما چہرے کے انہیں اسلام کا نورانی چہرہ نظر آئے اور میں تجھے اس خدمت کے لئے مسیح موعود کا عہدہ دیتا ہوں۔بس پھر کیا تھا، چار دانگ میں شور مچ گیا کہ کافر ہے کا فر ہے۔تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے کہ آپ کو دکھ دینے کے لئے کیسی کیسی کوششیں کی گئیں یکفر کا فتوی لگایا گیا گالیاں دی گئیں اور آپ کی نسبت ایسے ایسے بے حیاتی کے کلمے کے گئے کہ ایک مولوی کی زبان سے نکلنے تو الگ ایک گھنگی بھی اُن کے بولتے ہوئے جھجک جاتا ہے شیطوں کے ذریعہ اشتہاروں کے ذریعہ اخباروں کے ذریعہ اور کتابوں کے ذریعہ آپ پر ایسی ایسی ہمتیں لگائی گئیں اور وہ وہ جھوٹ باندھے گئے کہ معاذ اللہ ! پھر زبانی تکلیفوں سے گزر کر عملی رنگ میں