سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 224
مهم ۳۳۳ گے۔میں تمہیں دلی خلوص کے ساتھ یقین دلاتا ہوں کہ نبی کریم صلے الل کلیه مسلم سے بڑھ کر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کوئی نظر نہیں آتا۔کیونکہ آپ نے اس کلمہ لا الہ الا الله کے ذریعہ نہ صرف خود نجات پائی بلکہ ایک دنیا کو نجات دلائی۔بلکہ اس کے غلاموں کے غلام لوگوں کو نجات دینے والے ہوئے۔جیسا کہ اس نے اس زمانہ کے امام کی زبان پر فرمایا۔آگ سے ہمیں مت ڈرا کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔دنیا میں یہ بات شاید لطیفہ سمجھی جاوے کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی وفات یر کسی نے نوحہ نہیں لکھا۔مگر میرا دل ہمیشہ نوحہ کیا کرتا ہے۔کہ اسے رسول ! تو نے ہمیں کیوں چھوڑ دیا۔جس کی معرفت ایسی کامل تھی کہ خدا کے سوا گویا کچھ نظر ہی نہ آتا تھا۔سارے عرب کے عمائد آپ کے برخلاف اُٹھے۔آپ کے چچا کے پاس شکایت کی۔آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیں اور امیدیں بھی دلائیں کہ اگر ماں کی خواہش ہے تو لے ہے۔اگر حسین سے حسین بی بی چاہے تو وہ حاضر ہے۔اگر بادشاہی کی حرص ہے، تو ہم اپنا سردار بنا لیں۔مگر آپ نے فرمایا کہ مجھے کسی چیز کی بھی ضرورت نہیں میرے لئے میرا خدا کافی ہے۔اگر مال کچھ چیز ہے، اگر دنیا کی بادشاہتیں کچھ قدر رکھتی ہیں تو خدا تعالیٰ خود ہی مجھے دے دے گا۔تمہارے واسطہ کی ضرورت نہیں۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کا وجود کس قدر با برکت اور باعزت ہے کہ بادشاہوں کا غلام زادہ ہونا تو ایک قسم کی گالی اور ذلت کا موجب ہے مگر آ نحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کے غلام زادے بھی دنیا میں وہ عزت پا رہے ہیں جو بڑے سے بڑے رئیس کو حاصل نہیں۔میں جب راہ میں چلتا ہوں تو لوگ دست بوسی اور اعزاز و اکرام میں ایسا مبالغہ کرتے ہیں کہ رستہ چلنا دشوار ہو جاتا ہے۔اس وقت میں خیال کرتا ہوں کہ اللہ! کیا ہی عالیشان ہے وہ نبی جس کا غلام زادہ ہونا اس قدر عزت و شرف کا موجب ہے۔آخر یہ عزت جو میری کی جاتی ہے یہ اسی لئے ہے کہ میں ه تذکره م۳۹۴