سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 225
۲۲۵ غلام احمد کا بیٹا ہوں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام زادہ ہوں لے کہ آپ کی طرز خطابت اور اس کے گہرے اثرات حضرت صاحبزادہ صاحب کو قادیان میں بھی اور قادیان سے باہر بھی اپنوں میں بھی اور غیروں کے مجمع میں بھی بیسیوں مرتبہ مختلف دینی اور تربیتی مسائل پر خطاب کرنے کا موقع ملا۔آپ کی اکثر تقاریر تو من من محفوظ نہیں رہ سکیں لیکن بعض اخبارات و رسائل میں محفوظ کر لی گئیں۔اُن سب کا پیش کرنا بھی ممکن نہیں۔لہذا آپ کے بے تکلف سادہ مگر پر معارف طرز کلام کا محض ایک نمونہ پیش کرنے پر اکتفا کی جاتی ہے۔کیا اپنے اور کیا غیر جملہ سامعین جس حد تک آپ کے خطاب سے متاثر ہوتے تھے اس کا کچھ اندازہ الحکم میں شائع ہونے والی ایک جلسہ کی رو ندا د سے لگایا جاسکتا ہے :۔بنارس سے واپسی پر حضرت صاحبزادہ صاحب کی طبیعت ناساز تھی مگر کانپور کے احباب نے چاہا کہ ایک پبلک تقریر کریں اگر صاحبزادہ صاحب یا ہم لوگ چاہتے تو کانپور میں آپ کے متعد دلیکچر ہو سکتے تھے مگر چونکہ صاحبزادہ صاحب کو چار دن سفر بنارس میں صرف کرنے پڑے اور ان کی طبیعت بھی نصیب اعدام درست نہ تھی۔اس لئے آپ کا منشا کسی پبلک تقریر کا نہ تھا تاہم احباب کے بے حد اصرار پر آپ نے منظور کیا کہ وہ خصوصیات سلسلہ پر پبلک تقریر کریں اس اعلان سے یہ بھی غرض تھی کہ آنے والے وہی لوگ ہوں گے جو ہمارے سلسلہ کے متعلق واقفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس مطلب کے لئے تیار ہو کر آئیں گے کہ انہوں نے کیا سنا ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے منظور فرمانے کے بعد دوسرا سوال اعلان کا تھا پبلک جلسوں کے لئے بعض وقت یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ غیر احمدیوں کی طرف سے ہوں۔مگر حضرت صاحبزادہ صاحب احمدی قوم کی پوزیشن کو قائم کرنا چاہتے ہیں اور نہیں پسند کرتے کہ وہ دوسروں میں مدغم اور منظم ہو جاوے۔میں اس جلسہ کے اعلان کو جماعت کے سیکرٹری کی طرف سے دینا تجویز ہوا۔اور ۱۸ار اپریل کو جس کی شام کو لیکچر ہونا تھا۔اربجے کے قریب اعلان ہو سکا۔وہاں کی جماعت نے نہایت مستعدی سے اس اعلان کو بقدر اپنی ہمت $1910 اخبار بدس" قادیان اسم اور اپریل 19ء