سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 223
ثبوت ملتا ہے۔ہر چیز میں ہم دیکھتے ہیں کہ فضلہ لگا دیا ہے۔میوہ کھاؤ تو اس کی گٹھلی پھینکنی پڑتی ہے۔فضلہ چھوڑنا ہی پڑتا ہے۔اور پھر جو کچھ کھایا جائے اس کا فضلہ بن کر بھی ایک وقت خاص پر نکل جاتا ہے اور دوسرے جانداروں کے کھانے کے کام آتا ہے ، اس طرح اس کی وبیت کی صفت اپنا جلوہ دکھاتی ہے" نماز با جماعت کی برکتوں پر ایک نئے انداز میں روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا : پس میں تمہیں سخت تاکید کرتا ہوں کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھو۔جماعت پر جو فضل ہوتے ہیں وہ اکیلے پر نہیں ہو سکتے۔دیکھو ایک انسان ہے۔اس کا ہاتھ کاٹ دو پیروں کو نکال دو تو وہ ان اعضاء سے مل کر جو کام کر رہا تھا۔اب نہیں کر سکتا۔یہ اس لئے کہ جماعت کے ساتھ جو کام مختص ہے۔وہ اکیلے سے نہیں ہو سکتا۔اسی طرح مرکبات سے دوائیاں بنی ہوتی ہیں جو تریاتی اثر رکھتی ہیں۔وہ اکیلی کسی دوا میں نہیں ہو سکتا۔" # آیات قرآنی پر آپ کے انداز تدبر کی ایک مثال پیش ہے۔اس مضمون پر غور کرتے ہوئے کہ کے کی۔اللہ تعالیٰ اپنے محسن بندوں کے اجر ضائع نہیں کرتا، آپ کا ذہن اس سوچ میں ڈوب گیا کہ پھر کیوں ہزار ہا پاکیزہ نبیوں کی تعلیم ضائع ہو گئی اور کیوں صرف آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی تعلیم محفوظ رکھی گئی۔اس مسئلہ پر غور کرتے ہوئے آپ بحر معارف کی جن گہرائیوں میں غوطہ زن ہوتے، اس کا کچھ اندازه مندرجہ ذیل اقتباس سے ہو سکتا ہے " میں نے لا يُضِيعُ أَجْرَ المُحسنین پر تدبر کیا ہے کہ کیا وجہ ہے دوسرے انبیا عليهم السلام کی تعلیم بالکل محفوظ نہیں اور نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی تعلیم محفوظ ہے۔تو مجھے سمجھایا گیا کہ چونکہ اللہ تعالی کی دوسری صفات نے بھی جلوہ کرنا تھا اور ہر ایک نبی نے خدا کی ایک نہ ایک صفت کے ماتحت کام کیا ہے اس لئے اُن کی تعلیم کے ساتھ دوسرے نبی کی تعلیم کا اضافہ ہے۔مگر آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم محسن کامل تھے۔آپ کی ذات آپ کی تعلیم خدا تعالیٰ کی صفات کا جلوہ تھا۔اس لئے خدا نے فرمایا: اِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ۔ہم اس کو محفوظ رکھیں