سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 156
۱۵۶ دشمن کی خواہش بھی یہی تھی اور ارادے بھی یہی تھے۔چنانچہ مسلمان علماء میں سے مولوی ثناء اللہ صاحب جو آپ کے دشمنوں کی صف اول میں تھے اس خواہش کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- مسلمانوں سے ہو سکے تو مرزا صاحب کی کل کتابیں سمندر میں نہیں، کسی جلتے تنور میں جھونک دیں۔اسی پر بس نہیں بلکہ آئندہ کوئی مسلم یا غیر مسلم مورخ تاریخ بند یا تاریخ اسلام میں اُن کا نام تک نہ سے پہلے اگرچہ مندروں ، سکھوں مسلمانوں اور عیسائیوں کے دیرینہ اختلافات اپنی جگہ پر تھے لیکن اس مشترک دشمن کے عناد نے متحارب گروہوں کو بھی ایک قسم کی وقتی وحدت عطا کر دی تھی۔خلاصہ کلام یہ کہ صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کا بچپین حس بالا فضا کے سایہ تلے پروان چڑھ رہا تھا وہ شدید مخالفت کے تاریک بادلوں کے اجتماع کے باعث برق ورعد کا ایک دل ہلا دینے والا منظر پیش کر رہی تھی۔اس میں تھی یہ تر فلمیں بھی تھیں اور پے بہ پے بجلی کے کڑکے بھی۔افق تا افق ہراتی ہوئی عداوت کی بے نیام تلواریں تھیں اور سر بفلک سیاہ بادلوں کے بیلنے سے پھوٹتا ہوا لبعض کا لاوا کتنی بھیانک تھی یہ فضا کوئی مخالفت کی مخالفت تھی!۔کوئی شور سا شور تھا !!۔یہ وہ گھٹا تھی جو چاروں سمت سے اُمڈ آئی تھی۔کبھی آریہ سماج کے خیل در خیل بادل مشرق سے چنگھاڑتے ہوئے حملہ آور ہوتے تو کبھی عیسائیت کی تہ بہ تہ کثافتیں اُفق مغرب سے بجلیاں گرائیں۔دیکھنا اب یہ ہے کہ شدید مخالفت کا یہ طوفان احمدیت کے قافلے کا رخ موڑنے میں یا اس کے قدم تھا منے میں یا اس کی جمعیت کو پراگندہ کرنے میں کیس حد تک کامیاب ہوسکا۔یہ درست ہے کہ مخالفت کے شور و غوغا کے باوجود قافلے منزل بمنزل رواں دواں رہتے ہیں۔لیکن کیا یہ کہنا بھی درست ہو گا کہ سفاک لٹیروں اور بے باک رہزنوں کے خوفناک جملے بھی کسی قافلے کے قدم روکنے یا اس کی جمعیت کو پریشان کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے ؟ یا بڑے بڑے پر ہیبت بادشاہوں کی فوج کشی بھی قافلوں کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی ہے نہیں۔یقیناً درست نہیں۔کیونکہ فوجوں کی یلغار کے راستوں پر تو قافلوں کے تصور سے بھی مسافروں کے دل دہلتے اور پتے پانی ہوتے ہیں۔احمدیت کا قافلہ رواں دواں رہا۔کوئی خوف ان خدا پرستوں کی راہ میں حائل نہ ہو سکا کوئی حملہ احمدیت کی رفتار ترقی کو روک نہ سکا۔کوئی یلغار اسے تنزیل کی جانب پسپا نہ کر سکی بجلیاں گرتی رہیں۔لیکن یہ آگ انہیں جلانے پر قدرت نہ پاسکی بادل گرج گرج کر فضا کا سینہ چاک کرتے رہے۔لیکن مجاہدین احمدیت کے دلوں پر کوئی لرزہ پیدا نہ کر سکے له الحکم مادر جوان شده