سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 157 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 157

104 ظلمات کے پر دے تہ بہ تہ ہونے کے باوجود وہ نور بصیرت اُن آنکھوں سے چھین نہ سکے جو اندھیروں کے پڑے پھاڑ کر صراط مستقیم کی طرف سر آن رہنمائی کرتا ہے حضرت صاحبزادہ صاحب اور اس شاندار مستقبل کے درمیان جس کا پیش گوئی میں وعدہ دیا گیا تھا پھولوں کی کوئی بیج نہیں بھی ہوتی تھی بلکہ قدم قدم پر کانٹے بھی تھے اور پھر بھی اور لاتعداد ایسے خطرناک موڑ بھی جن پر اگر یہاں سے بیچ نکلے۔۔۔اور اگر یہاں سے بیچ نکلے کی شرخ حروف میں لکھی ہوئی تختیاں آویزاں تھیں۔ہیمر کے ساتھ آپ کی زندگی کی بڑھتی ہوئی مشکلات کا بیان تو بعد میں آئے گا بچپن کے جس دور پر ہم نظر ڈال رہے ہیں اس وقت تو ابھی دُنیا کے قانونِ فتح و شکست کے لحاظ سے ہرگز یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ احمدیت کا کوئی وجود باقی بھی رہے گا۔بلکہ اگر مخالف اور موافق تمام اسباب و عوامل کو کسی کمپیوٹر میں ڈالا جاتا بس صرف انہی مشعیت کا خانہ خالی چھوڑ دیا جاتا تو ہر بار طلا استشه وبلا شبہ کمپیوٹر کا جواب میں نکلتا کہ احمدیت چند سانسوں کی مہمان ہے۔اس پر اگر خدا تعالیٰ کی تائید کو بھی مخالف خانے میں ڈال دیا جاتا تو پھر جو نتیجہ نکل سکتا تھا' وہ ظاہر ہے۔جو قارتین اس تاریخ ساز معرکۂ حق و باطل کی تفاصیل میں دلچسپی رکھتے ہیں انہیں تاریخ احمدیت کی جلد سوم کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔ہم یہاں صرف ایک نہایت مختصر خاکہ پیش کرنے پر اکتفا کریں گے۔اس کی ضرورت بھی محض اس لئے پیش آرہی ہے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کی زندگی بعد ازاں مکمل طور پر احمدیت میں جذب ہو کر ایک ہی وجود کے دو نام بن گئی تھی لہذا ربط مضمون کی خاطر تاریخ احمدیت کے اس دور کے بنیادی ڈھانچہ سے شناسائی بھی ضروری ہے۔نشاہ کے آخر میں پہلی مرتبہ حضرت مرزا صاحب نے خدا تعالیٰ سے واضح باذن پا کر اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان فرمایا اور اس سلسلہ میں ایک رسالہ بنام فتح اسلام تحریر فر مایا فتح اسلام امرتسرمیں ابھی زیر طبع ہی تھی کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے اتفاقا اس کے پروف پریس سے منگوا کر دیکھے اور دیکھتے ہی آگ بگولا ہو گئے عقیدت معا عداوت میں بدل گئی اور پھر یہ عدادت اتنی شدت اختیار کر گتی کہ جلد ہی جناب مولوی صاحب نے حضرت مرزا صاحب کے خلاف یہ واشگاف اعلان جنگ کر دیا :- اشاعتہ السنہ کا قرض اور اس کے ذمہ یہ ایک فرض تھا کہ اس نے جیسا کہ اس کو (یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام - ناقل) دعادی قدیمہ کی نظر سے آسمان پر چڑھایا تھا ویسا ہی ان دعاوی جدیدہ کی نظر سے زمین پر گرا دے گا۔ے اشاعة السته جلد ۱۳ نمبر ا ص ۴