سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 155 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 155

100 پر ہول اور پرخطر فضاؤں تلے حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کی ابتدائی زندگی کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے آپ ایک مرتبہ پھر ذرا اس بالائی سطح کے منظر پر بھی ایک نظر ڈالیں جس پر حضرت مرزا صاحب علیہ السلام اور آپ کے مخلص متبعین ایک عظیم جہاد میں مصروف تھے۔اس سطح کی فضا بڑی طوفان خیر امتموج اور متلاطم تھی گویا ایک شور قیامت بیا تھا۔تعارفی باب میں قبل ازیں یہ ذکر گزر چکا ہے کہ حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ السلام نے اسلام کی تائید میں تمام مد مقابل مذاہب کے ساتھ زیر دست قلمی اور لسانی جہاد شروع کرتے اُن کی دشمنی تو پہلے ہی مول لے رکھی تھی۔اب جب یہ دعویٰ کیا کہ پہلے سچے فوت ہو چکے ہیں اور اُمت محمد میں نازل ہونے والا بس میں ہی ہوں تو مسلمان بھی آپ کے شدید دشمن ہو گئے بلکہ اس دشمنی میں غیروں پر بازی لے جانے لگے۔تب آپ کے خلاف بر صغیر پاک وہند میں مخالفت کی ایک ایسی خوفناک آگ بھڑکائی گئی جس نے تمام تر صغیر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کیا ہندو اور کیا مسلمان بلا تمیز مذہب و وقت کبھی اس آگ میں بغض و حسد کا ایندھن جھونکنے لگے۔آپ کی مثال ایک ایسے جرنیل کی سی تھی جود دشمنوں کے زینے میں پھنس کر جو کبھی لڑائی لڑرہا ہو جس کے سامنے بھی دشمن ہو اور پیچھے بھی، دائیں بھی ہو اور باتیں بھی یہاں تک کہ اس قلعے کی فصیل کے اندر بھی دشمن ہوں میں کی حفاظت کی خاطر اس نے چند ٹمٹی بھر جانثاروں کے ساتھ سر دھڑ کی بازی لگا رکھی ہو۔اس جنگ میں کوئی توازن نہ تھا اور ہر سبب جو مدد گار ہو سکتا تھا بظاہر دشمن کے ساتھ تھا۔یہاں تک کہ اس امر پر بھی دشمن کے ہر کیمپ کا سو فیصدی اتفاق تھا کہ خدا بھی اس شخص کے ساتھ نہیں۔اگر چہ یہ امر وہ طے نہ کر پائے تھے کہ پھر اُن میں سے خدا کس کے ساتھ ہے۔ویسے ہر ایک کا زعم اپنی اپنی امر جگہ میں تھا کہ خدا بس اسی کے کیمپ میں رونق افروز ہے۔یہ بھی کہتے تھے کہ اور کسی کے ساتھ ہویانہ ہو مرزا صاحب کے ساتھ تو خدا بہر حال نہیں بلکہ اُن کا تو وہ ایسا دشمن ہے کہ آج نہیں تو کل سخت عبرتناک سزائیں دے کر ان کو اور اُن کے سلسلہ کو اپنے بے پناہ غضب کی چکی میں پیس ڈالے گا اور خاک تک ہواؤں میں اس طرح بکھیر دے گا کہ ڈھونڈے سے تاریخ دان کو ان کا نشان نہ ملے۔