سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 112 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 112

اسی تعلق میں ایک اور روایت بھی قابل توجہ ہے جس سے یہ اندازہ ہو سکتا ہے کہ کس حد تک آپ کے دل میں دینی علم کے حصول کے لئے ایک فطری لکن پائی جاتی تھی۔آپ فرماتے ہیں :- ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود السلام کی زندگی میں مجھ سے ناراض ہو گئے۔وجہ یہ کہ آپ نے ایک مضمون لکھوایا تھا اور اس پر ایک انعام مقرر کیا تھا جو بعض کے نزدیک اس قابل نہ تھا۔میری رائے بھی یہی تھی۔ایک شخص نے سختی سے نکتہ چینی کی اور وہ کسی نے میری طرف منسوب کر کے آپ کو پہنچا دی۔مولوی صاحب مجھے سے ناراض ہو گئے۔میں اُن دنوں بخاری پڑھتا تھا۔میں فوراً بخاری نے کر آپ کے پاس پڑھنے کے لئے چلا گیا۔حالانکہ مجھے ان دنوں بخار ہوتا تھا، اور کئی ماہ سے سبق چھوڑا ہوا تھا لیکن میں نے یہ خیال کیا کہ اگر آج نہ گیا تو ضرور دل میں ایک حجاب پیدا ہو جائے گا اور علم سے محروم رہ جاؤں گائیے اس روایت کو پڑھ کر آپ کی بصیرت کے ایک اور پہلو کی طرف بھی ذہن متوجہ ہوتا ہے۔یعنی اس بار یک نفسیاتی نکتہ تک رسائی کہ استاد اور طالب علم کے درمیان مذکورہ صورت حال میں ایک ایسا حجاب بھی پیدا ہو سکتا ہے جو علم کی راہ میں روک بن جاتے یہ ہر بچے کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ طرز فکر آپ کی غیر معمولی ذہانت اور بصیرت پر گواہ ہے۔سبقاً سبقاً قرآن کریم اور صحیح بخاری پڑھنے کے علاوہ بھی آپ کو وسیع پیمانے پر دینی تعلیم محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب کی وجہ سے صبح و مسائل رہی تھی لیکن یہ زبانی اور عمومی رنگ کی تعلیم تھی۔یہ وہ گھر تھا جہاں دن رات تذکرہ ہی خدا اور رسول کا رہتا تھا۔جوں جوں آپ کی عمر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مبارک سایہ تلے بڑھتی گئی۔دینی اغراض سے آنے والے دوستوں کی تعداد بھی بڑھتی چلی گئی۔یہاں تک کہ قادیان ایک مرجع تخاص و عام بن گیا۔ان آنے والوں میں دوست بھی تھے اور دشمن بھی لیکن ذکر دونوں کی زبان پر امور دینیہ ہی کا کتا تھا۔پس اُس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قرب میں کسی بچے کا پکنا ہی ایک بڑی بھاری دینی تربیت گاہ میں داخل ہونے کے مترادف تھا۔اس دور کا ذکر کرتے ہوئے خود حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :- له الفضل ۱۳ ستمبر