سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 111 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 111

کے بعد بھی میرے کام آنے والا تھا۔لے ایک اور موقع پر فرماتے ہیں :- " اللہ تعالیٰ نے اب مجھے بہت علم بخشا ہے۔۔لیکن اس کتاب (قرآن) کی چاٹ انہوں نے ہی لگائی اور اس کی تفسیر کے متعلق صحیح راستہ پر ڈالا اور وہ بنیاد ڈالی جس پر عمارت تعمیر کر سکا۔اس لئے دل ہمیشہ ان کے لئے دعا گو رہتا ہے کے دینی تعلیم کے متعلق آپ کا رجحان اور ذاتی دلچسپی دنیوی تعلیم کی طرف رجحان اور دلچسپی سے بالکل مختلف اور ممتاز نظر آتے ہیں۔کہاں یہ بے رخی کہ حساب کی کلاس میں عدم دلچسپی اور صحت کی کمزوری کے باعث یکسر جانا ہی ترک کر دیا اور دیگر مضامین کی طرف بھی کوئی خاص توجہ نہ کی 1 سکول میں آتے دن ناغے ہوتے رہے۔اور کجا دینی تعلیم کے لئے ایسا ذوق و شوق کہ بسا اوقات سارا سارا دن اس انتظار میں بیٹھے گزار دیتے تھے کہ کب حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کو فرصت ملے اور آپ سے سبق لے لیں اور دینی تعلیم کے اس ذوق و شوق کی راہ میں جسمانی بیماریوں کے حامل ہونے کا تو کیا سوال جو غیر معمولی مشقت اس راہ میں اُٹھانی پڑی، اُس کے نتیجہ میں بعض عوارض اور بھی آپ کو لاحق ہو گئے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں :- میں نے حضرت خلیفہ البیع الاول سے تیس طرح پڑھا ہے اور کوئی شخص نہیں پڑھ سکتا آدھ آدھ پارہ بخاری کا آپ پڑھتے تھے اور کہیں کہیں خود بخود ہی کچھ بتا دیتے تھے اور بعض وقت سبق کے انتظار میں سارا سارا دن گزارنا پڑتا تھا اور کھانا بھی بے وقت کھایا جاتا تھا۔اسی وقت میرا معدہ خراب ہوا ہے۔ایک دفعہ میرے سر میں درد تھا اور میں پڑھ کر آیا تھا۔والدہ نے پوچھا کیا پڑھتے ہو ؟ میں نے کہا کہ میں تو پڑھتا نہیں۔مولوی صاب کہا ہی پڑھتے ہیں۔آپ نے جا کر مولوی صاحب سے کہا۔آپ کیا پڑھاتے ہیں ؟ محمود یوں کہتا ہے۔حضرت مولوی صاحب نے مجھے فرمایا۔میاں! تم ہمیں کہتے ! بیوی صاحبہ کو کہنے کی کیا ضرورت تھی یہ کہ له الفضل سر نومبر ۱۹۵۴ سے الفضل ۳ جولائی ۱۹۲۲ء تفسیر کبیر جلد سوم ص ۸۳