سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 113
١١٣ ” ہمارے کانوں میں ابھی تک وہ آوازیں گونج رہی ہیں جو ہم نے حضرت میسج موعود علیہ السلام سے براہِ راست نہیں میں چھوٹا تھا مگر میرا مشغلہ بھی تھا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجلس میں بیٹھا رہتا اور آپ کی باتیں سنتا یه له اس قسم کی پر معارف مجالس سے آپ نے کیا استفادہ کیا۔اس کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: " ہم نے ( ان مجالس میں) اس قدر مسائل سنے ہیں کہ جب آپ کی کتابوں کو پڑھا جاتا ہے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام باتیں ہم نے پہلے سنی ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ آپ دن کو جو کچھ لکھتے دن اور شام کی مجلس میں آکر بیان کر دیتے تھے اس لئے آپ کی تمام باتیں ہم کو حفظ ہیں اور ہم ان مطالب کو خوب سمجھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی منشا اور آپ کی تعلیم کے مطابق ہیں۔آخر میں ہم آپ کے بارہ میں آپ کے بچپن کے دو بزرگ اساتذہ کے تاثرات بیان کر کے اس باب کو ختم کرتے ہیں۔سیرت کے مطالعہ کا یہ بھی ایک پہلو ہے کہ استاد کی آنکھ سے شاگرد کو دیکھا جائے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ جو آپ کے انگریزی کے استاد تھے اور علاوہ مدرسہ کے آپ کو گھر پر بھی پڑھاتے تھے، اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- مرج 19ء میں مدرسہ تعلیم الاسلام کا چارج لینے کے بعد جلد ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے ما تحت حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس وقت جب کہ آپ کی عمر 12 سال کی تھی بندہ کے پاس انگریزی پڑھنی شروع کی پہلے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک مکان میں جو دار المسیح الموعود کے متصل اس جگہ واقع تھا جہاں آجکل نواب صاحب کا مکان ہے رہتا تھا۔جب تک میں اس مکان میں رہا حضر خلیفہ ایسی ایدہ اللہ تعالٰی اس مکان میں پڑھنے کے لئے تشریف لاتے رہے اس کے بعد میں خود حضور کی خدمت میں حاضر ہوتا۔اور یہ خدمت بندہ حضرت له الفضل ۲ دسمبر ۱۹۳۷ له الفضل ۳ دسمبر ۱۹۳۷