سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 99 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 99

٩٩ ایک ایسا بچہ جس کی پیدائش اتنے بڑے عالمگیر نزاع کا مرکز بنی رہی ہو اور جس کی لمبی اور بامراد زندگی کے ساتھ اس کے باپ کی صداقت کی پہچان کی تمام تر امیدیں وابستہ ہوں، یقینا اس لائق ہے کہ اس کا باپ اس کی صحت و عافیت اور تعلیم و تربیت کے انتظام میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔لیکن تعجیب ہوتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کی طرف سے ایسا کوئی اقدام نہ کیا گیا۔نہ اس بچے کی صحت وعافیت کی طرف کوئی غیر معمولی توجہ دی گئی نہ اس کی تعلیم و تربیت کا کوئی خاص اہتمام کیا گیا۔یہ بات بھی نہ تھی کہ بچہ از خود ہی صحت مند اور توانا تھا یا تعلیم میں ویسے ہی بہت ہوشیار تھا اور کسی مخصوصی توجہ کا محتاج نہ تھا۔اس کے برعکس یہ ایک نحیف و نا تواں بچہ تھا جس کی صحت کسی بھی زاویہ نگاہ سے قابل رشک قرار نہیں دی جا سکتی تھی اور جس سے قبل پیدا ہونے والے اس کی والدہ کے تمام دوسرے بچے کم سنی ہی میں فوت ہو چکے تھے۔آپ کی آنکھوں میں گھروں کا جو آزار تھا وہ محض جسمانی تکلیف کا موجب ہی نہیں تھا بلکہ حصول تعلیم میں بھی مشکلات پیدا کر رہا تھا۔بسا اوقات آپ بچپن کے زمانہ میں آنکھوں کی بیماری کے باعث سکول جانے سے قاصر رہتے اور جاتے بھی تو پڑھائی کی طرف کما حقہ توجہ نہ دے سکتے۔جس کے نتیجہ میں آپ کے بچپن کا تعلیمی دور کسی بھی دنیوی معیار کے لحاظ سے تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔یہ ایک اہم نفسیاتی سوال ہے کہ وہ شخص جو اپنے ہاں کسی ایسے بچے کی ولادت کی پیشگوئی کرے جو لمبی عمر پانے والا اور صاحب علم و فضل ہوا وہ پیشگوئی اگر اس نے خود بنائی ہو اور اس کا الہی بشارات سے کوئی تعلق نہ ہو تو ایسی صورت میں اپنے بچو کی تعلیمی دیکھ بھال وغیرہ سے متعلق اس کا کیا طیز زیل ہونا چاہیئے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی، دوست اور ہمن تمام دنیا کی آنکھیں اس بچے پر لگی ہوئی تھیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ حضرت مرزا صاحب کو اس بارہ میں کبھی کوئی تشویش لاحق نہ ہوئی اور سواتے اس کے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے قرآن کریم ناظرہ ختم کرنے پر آپ نے غیر معمولی خوشی منائی، صاحبزادہ صاحب کی تعلیم میں آپ کی کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آتی۔زمانہ کے دستور کے مطابق صاحبزادہ صاحب کی تعلیم کا آغاز گھر پر ہی حروف کی سوجھ بوجھہ