سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 221
مختلف معنی دیتا ہے۔جو انسان مناسب موقع معنی نہ کرے وہ دھوکا کھاتا ہے اگر کوئی شخص والدہ کی فرمانبرداری رسول کی فرمانبرداری اور رسول کی فرمانبرداری والد کی فرمانبرداری قرار دے لے تو ضرور ہے کہ کچھ مدت بعد قرار لے کہ کچھ ٹھوکر کھائے اور ممکن ہے کہ والد کا حکم مقدم سمجھ کر خدا کی درگاہ سے بھی دور ہو جائے۔بلغم کے قصہ ہی کو دیکھ لو کہ اس کی دعائیں قبول ہوتیں۔اس کی آواز خدا کی بارگاہ میں سنی جاتی۔وہ خدا کے دروازہ کی کنڈی کھٹکھٹاتا تو جواب پاتا۔مگر ایک ایسا موقع آیا کہ اس نے بادشاہ کی خواہش کو مقدم کیا تو اس کے لئے حکم ہوا کہ آج سے تیری دُعائنی نہ جائے گی۔وہ نہ سمجھا کہ چھوٹی چیزیں بڑی چیزوں کے لئے قربان کی جاتی ہیں۔عیسائیوں کو بھی اس قسم کا دھوکا ہوا ہے۔بکروں کو ذبح ہوتے دیکھا تو خدا کے بیٹے کو بھی قربان کر دیا اور یہ نہ سمجھے کہ بڑے چھوٹوں کے لئے نہیں بلکہ چھوٹے بڑوں کے لئے قربان کئے جاتے ہیں۔فرمانبرداری کے مفہوم کو خوب واضح کرنے کے بعد آپ نے ایک اور روزمرہ استعمال میں آنے والے لفظ "درد" کی مثال پیش نظر رکھ کر یہ وضاحت فرمائی : "دیکھو درد ہے۔اب کانٹا چھنے کا بھی درد ہے۔جگر کا بھی درد ہے۔قولنج کا بھی درد ہے۔پھر دل کا بھی درد ہے۔اب دیکھو لفظ تو درد ہی کا ہے مگر کجا کانٹے کا درد اور کجا اس دل کا دردجس کی قوم تباہ ہو رہی ہے۔غرض ایک اُجڈ انسان کے دل کا درد ہے جسے صرف دُنیا کی محدو د چیزوں سے تعلق ہے۔ایک عالم کے دل کا درد ایک شہید کے دل کا درد ہے۔ایک صدیق کے دل کا درد ہے۔پھر ایک نبی کے دل کا درد ہے۔اور یہ درد یکساں نہیں۔دیکھو ہم بھی درد محسوس کرتے ہیں مگر قوم کی جو تڑپ، جو درد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تھا، وہ ہم میں کہاں ہو سکتا ہے اللہ اللہ ! وہ کیسی دُعائیں تھیں جنہوں نے عرب میں جو جہالت کا منبع تھا علوم و معارف کی نہریں بہا دیں۔اور وہ قوم جو جہالت کی وارث تھی، اُسے