سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 220
۲۲۰ صاحبزادہ صاحب نے تشنہ حقائق قوم کو باپ کی طرح سیراب کر دیا اور وہی زمانہ یاد دلا دیا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس سے بھی زیادہ حقائق و معارف کے موتیوں سے مالا مال کرنے کے لئے اس زمانہ میں مختلف اہم موضوعات پر آپ نے درجنوں تقاریر فرمائیں اور بیبیوں مضامین لکھے جن میں سے اکثر آج ایک محفوظ ہیں۔ان میں سے بعض تقاریر اور مضامین کے اقتباسات بغیر تبصرہ کے پیش کئے جارہے ہیں۔یہ تقاریر اور مضامین آپ کے فکر و نظر اور شخصیت کی منہ بولتی تصویریں ہیں۔آپ کی بعض تقاریر جو ابھی تک محفوظ ہیں، اتنی لمبی ہیں کہ اُن کا من وعن پیش کرنا جگہ کی مناسبت کے لحاظ سے موزوں نہیں۔لیکن وہ اتنی پر مغز اور پر حکمت ہیں اور آپ کی جوانی کے پختہ فکر پر اس طرح واضح دلالت کر رہی ہیں کہ اُن کا کلیتہ حذف کر دینا بھی قارئین سے نا انصافی ہوگی۔ہمارے سامنے آپ کی ایک تقریر ۲۷ مارچ شش کی ہے جب کہ آپ کی عمر بیس سال کی تھی به تقریر جو سورۃ لقمان کے آخری رکوع میں بیان فرمودہ مضمون سے تعلق رکھتی ہے پورے سوا دو گھنٹے تک جاری رہی۔اس کے چند اقتباسات جو آپ کے ذہن رسا اور واضح غیر مسلم طرز فکر پر روشنی ڈالتے ہیں، پیش خدمت ہیں۔ایک ہی لفظ مختلف معانی میں جس طرح استعمال ہو سکتا ہے اور اس کے صحیح استعمال یا صحیح اور ان کے فقدان سے بعض اوقات جو عظیم خطرات لاحق ہو جاتے ہیں، اُن پر آپ کی کیسی وسیع اور گہری نظر تھی ، مثال کے طور پر ذیل کا اقتباس پیش ہے : "کلمہ شہادت اور سورۃ لقمان کا آخری رکوا پڑھ کر فرمایا۔فرمانبرداری ایک ایسی چیز ہے اور یہ ایسا مشکل مسئلہ ہے کہ اس کا حاصل کرتا بلکہ اس کا سمجھنا ہی مشکل ہے۔بعض الفاظ ہوتے ہیں جن کے ایک وقت میں کچھ معنی ہوتے ہیں اور دوسرے میں کچھ۔مثلاً فرمانبرداری ہے۔استاد کی فرمانبرداری اور معنی رکھتی ہے اور والدین کی فرمانبرداری اور معنوں میں چھپایا، ماموں کی فرمانبرداری کا کچھ اور رنگ ہے۔پھر بادشاہ کی فرمانبرداری اور معنوں میں ہے۔مرسل یا مامور من اللہ کی کی فرمانبرداری اور ہی شان میں ہے۔ایک ہی لفظ ہے جو مختلف جگہوں میں ل "الحكم" جوبلی نمبر دسمبر صر کالم ۲