سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 204
کم۲۰ ہوتا ہوں تو محض اس نیت سے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ پڑھتے تھے۔میں نہیں جانتا میرا کتنا وقت ہے۔۔۔مجھے کیا معلوم ہے کہ پھر کہنے کا موقعہ ملے گا یا نہیں ؟ے موقعہ ہو تو تو فیق ہو یا نہ ہو۔اس لئے میں نے ضروری سمجھا کہ تم کو حق پہنچا دوں پس میری سنو اور خدا کے لئے سنو۔اسی کی بات ہے جو میں سنانا چاہتا ہوں میری نہیں کہ : ވ ہو واعتصموا بحبل الله جميعا ولا تفرقوا حضرت اقدس خلیفہ ایسے الاول رضی اللہ عنہ کی اس نہایت پر درد اور موثر تقریر سے علم ہوتا ہے کہ جو فتنہ ششتہ میں بظاہر دب گیا تھا وہ پھر بڑی شدت سے سر اٹھانے لگا تھا اور نظام خلافت کو گیا پھر سے سر اور مٹانے کی کوششیں ایک بار پھر تیز کر دی گئی تھیں۔افسوس کہ مسجد مبارک کے مقدس صحن میں مخلصین کی آہ و بکا کے درمیان عمد بعیت کی جو تجدید کی گئی تھی اُسے ایک بار پھر نیا منیا کر دیا گیا۔اور بار جمہوریت کے نام پر انجمن کے اقتدار اعلیٰ کا ڈھول ایک مرتبہ پھر اُسی زور و شور سے پیٹا جانے لگا۔اس فتنہ کا ایک پہلو تو وہی تھا جس کا حضرت خلیفہ المسیح کی محولہ بالا تقریر میں صراحتاً ذکر ہے ایک اور مہلو یہ تھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کو نظام خلافت کے دشمن اپنی راہ میں حائل دیکھ کر آپ کے خلاف بھی طرح طرح کی ریشہ دوانیوں میں مصروف ہو گئے۔ایک طرف تو یہ کہا جانے لگا کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کو انجمن نے اپنے اختیار سے خلیفہ بنایا ہے لیکن اقتدار اعلیٰ اس کے باوجود انجمن ہی کے ہاتھ میں ہے اور خلیفہ انجمن کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا نیز یہ بھی سب ملا کہا جانے لگا کہ انجمن کا یہ فعل بھی ایک غلطی تھا اور آئندہ اس قسم کی غلطی کا اعادہ نہیں کیا جائے گا۔یعنی موجودہ خلیفہ کی موت کے بعد انجمن کسی نئے خلیفہ کے انتخاب کی اجازت نہیں دے گی خواہ کیسے ہی محدود اختیارات کیوں نہ رکھتا ہو۔دوسرا پہلو اس فتنے نے یہ اختیار کیا کہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے بارہ میں مشہور کیا جانے لگا کہ یہ جو نظام خلافت کے حامی اور خلیفہ المسیح کے بڑے مطیع بنے پھرتے ہیں اور اصل محض اس لئے ہے کہ یہ خود خلیفہ بننے کے خواہشمند ہیں۔احباب جماعت میں اس الزام کی اشاعت پہلے پہل تو زبانی سرگوشیوں کے ذریعہ کی جانے لگی۔پھر گمنام مطبوعہ مفلٹس کے ذریعہ اس زہر یلے خیال کی اطلاعات ے بدر قادیان یکم فروری ۱۹۱۷ ص ۳ اہم