سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 203
نہیں۔تمہارا مال جو میرے پاس نذر کے رنگ میں آتا تھا۔اس سے پہلے اپریل تک میں اسے مولوی محمد علی کو دے دیا کرتا تھا۔مگر کسی کو غلطی میں ڈالا اور اس نے کہا کہ یہ ہمارا روپیہ ہے اور ہم اس کے محافظ ہیں۔تب میں نے محض خدا کی رضا کے لئے اس روپیہ کو دینا بند کر دیا کہ میں دیکھوں یہ کیا کر سکتے ہیں۔ایسا کسنے والے نے غلطی کی انہیں بے ادبی کی۔اسے چاہیئے کہ وہ تو بہ کرے میں پھر کہتا ہوں کہ وہ تو بہ کرے۔اب بھی توبہ کرلیں۔ایسے لوگ اگر توبہ نہ کریں گے تو ان کے لئے اچھا نہ ہوگا۔تم خوب یاد رکھو کہ معزول کرنا اب تمہارے اختیار میں نہیں تم مجھ میں عیب دیکھو آگاہ کر دو مگر ادب کو ؟ ہاتھ سے نہ جانے دو۔خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں۔یہ خدا تعالیٰ کا اپنا کام ہے۔۔۔پس مجھے اگر خلیفہ بنایا ہے تو خدا نے بنایا ہے۔اور اپنے مصالح سے بنایا ہاں تمہاری بھلائی کے لئے بنایا ہے۔خدا کے بناتے ہوتے خلیفہ کو کوئی طاقت معزول نہیں کر سکتی اس لئے تم میں سے کوئی مجھے معزول کرنے کی قدرت اور طاقت نہیں رکھتا۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے معزول کرنا ہو گا تو وہ مجھے موت دے دے گا تم اس معاملہ کو خدا کے حوالے کرو۔تم معزول کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں تم میں سے کسی کا بھی شکر گزار نہیں ہوں جھوٹا ہے وہ شخص جو کہتا ہے کہ ہم نے خلیفہ بنایا۔مجھے یہ لفظ ہی دُکھ دیتا ہے۔جو کسی نے کہا کہ پارلیمنٹوں کا زمانہ ہے دستوری حکومت ہے۔۔۔۔مجھے وہ لفظ خوب یاد ہیں کہ ایران میں پارلیمنٹ ہو گئی اور دستوری حکومت کا زمانہ ہے۔انہوں نے اس قسم کے الفاظ بول کر جھوٹ بولا بے ادبی کی خوب یا درکھو اور سُن رکھو میری امانت، دیانت کی حفاظت تم سے نہیں ہو سکتی۔اور کوئی بھی نہیں کر سکتا۔مجھے تم میں سے کسی کا خوف نہیں اور بالکل نہیں۔ہاں میں صرف خدا ہی کا خوف رکھتا ہوں۔پس تم ایسی بدگمانی نہ کرو اور تو یہ کرو۔اگر ہمارا گناہ ہے، ہمارے ہی ذمہ رہنے دو۔اگر میں غلطی کرتا ہوں اس بڑھاپے اور اس عمر میں قرآن مجید نے نہیں سمجھایا تو پھر تم کیا سمجھاؤ گے ؟ میری حالت یہ ہے کہ بیٹھتا ہوں تو پیر دکھی ہوتے ہیں۔کھڑا