سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 205 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 205

۲۰۵ کی جانے لگی اور ستم ظریفی کی حدید ہے کہ خود حضرت خلیفہ ایسی کو یہ کہ کر حضرت صاحبزادہ صاحب اور دیگر اہل بیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بدظن کرنے کی کوشش کی گئی کہ صاحبزادہ صاب۔نه صرف خود خلیفہ بننے کے خواہشمند ہیں بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ در اصل خلافت کے حق دار تھے ہی وہی، اور حضرت خلیفہ المسیح کا انتخاب اُن کے نزدیک نعوذ باللہ غلط ہوا ہے۔اہلِ بیت کے علاوہ آپ کے دیگر رفقا کو بھی اس بارہ میں آپ کا ہم نوا بتایا جانے لگا۔حضرت خلیفہ مسیح الاوّل رضی اللہ عنہ بڑے خدا رسیدہ جہاندیدہ اور صاحب فہم و فراست بزرگ تھے اور علم لدنی اور معرفت کے ایسے اعلیٰ مقام پر فائز تھے کہ ایک لمحہ کے لئے بھی آپ ان ادنی چالاکیوں سے متاثر نہیں ہو سکتے تھے اور خوب اچھی طرح علم رکھتے تھے کہ کون گہرے اور غیر متزلزل یقین اور خلوص کے ساتھ اُن کا مطیع و فرمانبردار ہے اور کون نہیں۔چنانچہ آپ نے لاہور کے ایک سفر میں عین اس مقام پر جو ان افواہوں کا منبع اور مرکز تھا، بڑے واشگاف الفاظ میں فتنہ پروازوں کو متنبہ فرما دیا کہ یہ الزامات محض بے بنیاد ہیں اور خلیفہ امیج کو ان لغو کوششوں سے دھو کا نہیں دیا جا سکتا۔جون شاہ کو احمد یہ بلڈنگ لاہور میں (جو بعد ازاں منکرین خلافت کا مرکز بنا کا اور تا حال میں مرکز ہے) آپ نے اپنی تقریر میں فرمایا : میں نے تمہیں بارہا کہا ہے اور قرآن مجید سے دکھایا ہے کہ خلیفہ بنانا انسان کا کام نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔آدم کو خلیفہ بنایا کس نے ؟ الله تعالیٰ نے فرمایا: اِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَة - اس خلافتِ آدم پر فرشتوں نے اعتراض کیا کہ حضور وہ مفسد فی الارض اور مسفك الدم ہے مگر انہوں نے اعتراض کر کے کیا پھل پایا ؟ تم قرآن مجید میں پڑھ لو کہ آخر انہیں آدم کے لئے سجدہ کرنا پڑا۔پس اگر کوئی مجھ پر اعتراض کرے اور وہ اعتراض کرنے والا فرشتہ بھی ہو تو میں اسے کہہ دوں گا کہ آدم کی خلافت کے سامنے مسجود ہو جاؤ تو بہتر ہے اور اگر وہ ابا اور استکبار کو اپنا شعار بنا کر ابلیس بنتا ہے تو پھر یاد رکھے کہ الیس کو آدم کی مخالفت نے کیا کھیل دیا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اگر کوئی فرشتہ بن کر بھی میری خلافت پر اعتراض کرتا ہے تو سعادت مند فطرت اسے اسجد والادم کی طرف