سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 189
١٨٩ دیا کہ حضرت! ہم نے مولوی صاحب کو پریذیڈنٹ بنایا ہے اور پریذیڈنٹ کی راتیں پہلے ہی زیادہ ہوتی ہیں۔حضرت صاحب نے کہا ہاں یہی میرا منشا ہے کہ ان کی رائیں زیادہ ہوں۔مجھے اس وقت انجمنوں کا علم نہ تھا کہ کیا ہوتی ہیں ور نہ بول پڑتا کہ پریذیڈنٹ کی ایک ہی زائد رائے ہوتی ہے تو انہوں نے یہ دھوکا دیا۔پھر تفصیلی قواعد مجھے ہی دیئے گئے تھے اور میں ہی حضرت صاحب کے پاس لے کر گیا تھا۔اس وقت آپ کوئی ضروری کتاب لکھ رہے تھے۔آپ نے پوچھا کیا ہے ؟ میں نے کہا انجمن کے قواعد میں۔فرمایا لے جاؤ۔ابھی فرمت نہیں۔گویا آپ نے اُن کو کوئی وقعت نه دی له مندرجہ بالا حوالوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے معا بعد بعض اکابرین کی گفتگو سے یہ خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ بعض لوگ جنہوں نے نفلام خلافت کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا بلکہ حضرت مولوی نور الدین صاحب کے بلند مرتبہ اور جماعت کے عمومی رجحان سے مرعوب ہو کر بیعت خلافت میں شامل ہوتے تھے، کسی وقت بھی جماعت کے لئے فتنہ کا موجب بن سکتے ہیں اور ایسے خیالات کی ترویج کر سکتے ہیں جو جماعت میں خلافت کی قدرو منزلت کو کم کریں اور جماعت میں نفاق اور افتراق کے بیج ہوتیں۔خلافت اولی پر ابھی مشکل ایک سال گزرا تھا کہ آپ کے خدشات حقیقت کا جامہ اوڑھ کر سامنے آگئے اور جماعت میں منظم طریق پر بعض ایسی چہ میگوئیاں کی جانے لگیں جس سے خلافت کے وقار اور مقام کو سخت صدمہ پہنچنے کا احتمال تھا۔اس صورت حال سے متاثر ہو کہ حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ نے مقام خلافت سے متعلق مندرجہ ذیل سوالنامہ حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجوایا : صدر انجمن احمدیہ کے تعلقات اس زمانہ میں اور آئندہ زمانہ میں خلافت کے منصب پر بیٹھنے والے (یعنی خلیفہ) کے ساتھ کیسے ہیں اور کیسے ہوں گے۔یعنی آپس میں کیا فرق ہے اور ہو گا ؟ خلیفه۔۔۔بطور خود اشاعت اسلام وغیرہ و جماعت احمدیہ کی مدات کا انتظام کے رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۲۳ ص ۳۸۱۳