سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 188
JAA ہی نے مقر فرمایا تھا اور کوئی ایک ممبر بھی جمہوری طریق پر منتخب نہیں ہوا تھا۔اس لئے اس انجمن کو کسی جمہوری ادارہ کے مشابہ سمجھ لینا ان لوگوں کے ذہنی ابہام اور انتشار کی نماز میں تو کر سکتا ہے، انجمن کے جمہوری ہونے کے حق میں کوئی دلیل نہیں بن سکتا۔واقعہ یہ ہے کہ جس طرح جمہوریت کی راہ میں ایسی کوئی روک نہیں کہ چند آدمیوں کی بجائے ایک ہی آدمی کے ہاتھ میں سارے یا اکثر اختیارات سونپ دیتے جائیں۔اسی طرح شخصی سیادت کے نظام میں بھی ایسی کوئی روک نہیں کہ ایک کی بجائے چنا آدمیوں کو بعض اختیارات تفویض کر دیتے جائیں۔پس محض اس بنا پر کہ چند امور کی نگرانی کے لئے کوئی انجمن قائم کر دی گئی تھی، جمہوریت کا استنباط کرنا کم فہمی تھی۔اگر بفرض محال حضرت مسیح موعود علیه السلام کا منشا۔انجمن کے قیام سے جمہوری نظام کا قیام ہی تھا تو آپ کے وصال کے معا بعد جمہوری روایت کے مطابق ہی جماعت کو چند اشخاص پرشتمل ایک نتی انجمن کا انتخاب کرنا چاہئے تھا۔کیونکہ جمہوری اصول کے مطابق آپ کے وصال کے ساتھ ہی آپ کی قائم کردہ انجمن کی قانونی حیثیت ختم ہو جانی چاہیئے تھی اور نئی انتظامیہ چنے کا حق جمہور کی طرف کوٹ جانا چاہیے تھا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔تاریخ احمدیت گواہ ہے کہ جماعت نے نئی انجمن کا انتخاب نہیں کیا۔ہاں نئے امام کا انتخاب ضرور کیا اور انجمن جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ کے تابع فرمان تھی، آپ کے وصال کے بعد بھی اسی طرح نئے منتخب شدہ امام یعنی حضرت خلیفہ المسیح الاوّل کے تابع فرمان ہو گئی اور یقینا یہ الی تصرف تھا کہ کسی ایک شخص کو بھی اُس وقت یہ جرات نہ ہوتی کہ ایس کے خلاف کوئی آواز بلند کرتا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نزدیک اس انجمن کی جو شیت تھی اُسے مزید واضح کرنے کے لئے حضرت صاحبزادہ صاحب کی حسب ذیل روایت پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے :- ایک دن حضرت صاحب اندر آئے تو والدہ صاحبہ سے کہا کہ انہیں (یعنی تجھے) انجمن کا ممبر بنا دیا ہے۔نیز ڈاکٹر محمد اسماعیل صاحب کو اور مولوی صاحب کو تا کہ اور لوگ کوئی نقصان نہ پہنچا دیں۔۔۔آپ کو کہا گیا ہ۱۴ نام لکھ لئے ہیں۔حضرت نے فرمایا اور چاہیں باہر کے آدمی بھی ہوں۔۔۔اس پر کیا گیا کہ زیادہ آدمیوں سے کو رم نہیں پورا ہو گا۔آپ نے فرمایا اچھا تھوڑے سہی۔پھر کہا اچھا ایک اور تجویز کرتا ہوں اور وہ یہ کہ مولوی صاحب کی راتے چالیس آدمیوں کی رائے کے برابر ہو۔اس وقت میرے سامنے ان لوگوں نے حضرت صاحب کو دھوکا