سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 180 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 180

جماعت احمدیہ میں نظام خلافت کا قیام۔۔آئیے اب ہم مہترین اور اُن کی قیاس آرائیوں کو اُن کے حال پر چھوڑتے ہوئے اس نیٹو پر نظر کریں کہ جماعت احمدیہ نے اس نازک موڑ پر کیا روش اختیار کی۔ایک بہت اہم سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ جماعت کے مستقبل کی قیادت کی شکل کیا ہوگی ؟ کیا یہ اُن گدیوں کی پنج پر چل پڑے گی جن میں پیروں کا روحانی ور ته پر اسرار طریق پر خود بخود اولاد میں نسلاً بعد نسل منتقل ہوتا رہتا ہے۔یا جمہوریت کی اس ڈگر پر چل پڑے گی کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں لندا مذہبی امور میں بھی عوام ہی کا اقتدار چلے گا اور جمہوری طریق پر ایک ایسی مذہبی قیادت کو جنم دیا جائے گا جو نہ صرف عوام کے سامنے جواب دہ ہو بلکہ عوام کی منشا کے رحم و کرم پر رہے۔جب تک وہ اُسے قابل سمجھیں قیادت پر فائز رکھیں جب نا اہل تصور کرنے لگیں یا اپنے مزاج کے خلاف پاتیں تو اسے رد کر دیں۔۔۔۔۔تمیسرا سوال یہ تھا کہ کیا یہ قیادت وہ طریق اختیار کرے گی جو انبیا علیہم السلام کی پروردہ جماعتوں کا طریق ہوتا چلا آیا ہے اور جسے سید ولد آدم حضرت خاتم النبیین صلے اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال صحابہ رضوان اللہ علیہم کی جماعت نے اختیار کیا۔اس طریق کا فلسفہ یہ ہے کہ مذہبی قیادت جب بگڑ جائے تو کسی جمہوری یا آمرانہ طریق پر اس کی اصلاح نہیں ہوا کرتی بلکہ ایسے مواقع پر ہمیشہ اللہ تعالٰی خود قیادت کے اہل کسی انسان کو قیادت کے لئے چنتا اور اپنی نظر کے نیچے اسے ایک جماعت کی تربیت کی توفیق عطا کرتا ہے۔پس اس کے بعد وہ تربیت یافتہ جماعت اللہ تعالیٰ کے تصرف اور منت کے مطابق اپنے درمیان سے ایک ایسے متقی شخص کا انتخاب کرتی چلی جاتی ہے جو خدا تعالیٰ کے فرستادہ مامور کی نیابت کرتا ہے۔اس طریق پر جب اللہ تعالیٰ کی منشا اور مشیت کے مطابق ایک دفعہ وہ اُن کا امام مقرر ہو جاتا ہے تو پھر تا حین حیات وہ اُن کا امام رہتا ہے اور کوئی دنیوی طاقت قیادت کی یہ چادر اس سے چھین نہیں سکتی۔یہ نائب الرسول جسے خلیفہ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، انسانوں کے سامنے نہیں بلکہ صرف اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔گویا جہاں تک مذہبی جمہوریت کا تعلق ہے اس میں جمہور۔اللہ تعالٰی کی مشیت کا آلہ کار توحضر در بنائے جاتے ہیں مگر اقتدار اعلی خدا ہی کے ہاتھ میں رہتا ہے اور وہی ایک