سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 181
JAI مقدر ہستی ہے جس کے سامنے یہ مذہبی قیادت ہمیشہ جواب دہ رہتی ہے۔یہ بعینہ وہی نظام خلافت ہے جو حضرت نبی اکرم صلے اللہ علیہ وسلّہ نے اپنے پیچھے چھوڑا اور حضرت ابو بکر حضرت عمر حضرت عثمان اور حضرت علی رضوان اللہ علیہم ایک دوسرے کے بعد مسند خلافت پر متمکن ہوئے۔پس سوال یہ تھا کہ ان تینوں میں سے کون سا نظام اس جماعت کے لئے مناسب اور مفید ہوگا جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نقشِ قدم پر چل کر اسلام کے احیاتے لو کی خاطر قائم کی تھی۔جماعت احمدیہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر متفقہ طور پر جس طریق پر اجماع کیا وہ خلافتِ راشدہ کا طریق تھا۔اس کے مقابل پر پیری مریدی یا بادشاہی کے فرسودہ نظام کو بھی۔ذکر دیا گیا اور دنیا دی جمہوریت کے اس نظام کو بھی ٹھکرا دیا گیا جو مغربی فلسفہ کی پیداوار ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضور کے وصال کے بعد آپ کی تدفین سے پہلے جب آپ کی نعش مبارک بہشتی مقبرہ میں تدفین کے لئے لائی گئی تو جماعت کے بر سر آوردہ لوگوں نے باہم مشورہ سے نئے امام کی جانشینی کے مسئلے پر غور کرنا شروع کیا۔مکرم خواجہ کمال الدین صاحب نے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحب کی وفات سے دو چار روزہ پہلے رویا میں یہ دکھایا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت حکیم نور الدین صاحب آپ کی جانشینی کریں گے۔بزرگان جماعت اور انجمن کے سرکردہ ممبروں میں حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب کو خلیفہ منتخب کرنے کے بارہ میں رائے ظاہر کی۔تمام احباب جماعت کی نظریں پہلے ہی اس بزرگ اور عاشق صادق غلام پر پڑ رہی تھیں چنانچہ بلا توقف ہر ایک نے آپ کے حق میں رائے دی۔البتہ مولوی محمد احسن صاحب سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب سے بھی مشورہ کر لینا ضروری ہے۔چنانچہ جب آپ سے مشورہ لیا گیا تو آپ نے نہایت شرح صدر سے اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے فرمایا :- حضرت مولانا سے بڑھ کر کوئی نہیں اور خلیفہ ضرور ہونا چاہیے اور حضرت مولانا ہی خلیفہ ہونے چاہیں ورنہ اختلاف کا اندیشہ ہے اور حضرت اقدس کا ایک الہام ہے کہ اس جماعت کے دو گروہ ہوں گے ایک کی طرف خدا ہوگا لے حضرت حکیم مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اکابرین جماعت نے جب متفقہ طور پر یہ درخواست کی کہ وہ خلافت کی ذمہ داریاں سنبھال لیں تو آپ نے ایک نہایت پر از معرفت 2 له اصحاب احمد جلد دوم ص ۵۸ - طبع اول ۱۹۵