سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 179

149 رت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام کے ذریعہ تو نے نازل فرمایا ہے، میں اس کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلاؤں گا۔۔۔انسانی زندگی میں کسی گھڑیاں آتی ہیں بستی کی بھی چشتی کی بھی۔علم کی بھی جہالت کی بھی۔اطاعت کی بھی غفلت کی بھی۔مگر آج تک میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ میری گھڑی ایسی چشتی کی گھڑی تھی ایسی علم کی گھڑی تھی ایسی عرفان کی گھڑی تھی کہ میرے جسم کا ہر ذرہ اس عہد میں شریک تھا اور اس وقت میں یقین کرتا تھا کہ دُنیا اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کے ساتھ مل کر بھی میرے اس عہد اور اس ارادہ کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔شاید اگر دنیا میری باتوں کو شنتی تو وہ اُن کو پاگل کی بر قرار دیتی بلکہ شاید کیا یقیناً وہ اُسے جنون اور پاگل پن بجھتی۔مگر میں اپنے نفس میں اس عہد کو اور سب سے بڑی ذمہ داری اور سب سے بڑا فرض سمجھتا تھا اور اس عہد کے کرتے وقت میرا دل یہ یقین رکھتا تھا کہ میں اس عہد کے کرنے میں اپنی طاقت سے بڑھ کر کوئی وعدہ نہیں کر رہا بلکہ خدا تعالیٰ نے جو طاقتیں مجھے دی میں انہیں کے مطابق اور مناسب حال یہ وعدہ ہے بلے له الفضل اور جون 9 ۲۱