سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 20

محمدحسین صاحب بنالوی کا تبصرہ بہت شہرت رکھتا ہے اور جماعت احمدیہ کے لٹریچرمیں بکثرت اس کا ذکر ملتا ہے۔اسلام کے قلمی جہاد میں اس کتاب کی غیر معمولی عظمت کے پیش نظر اور اس بنا پر کہ در اصل تحریک احمدیت کا بیج اسی کتاب میں بویا گیا، ہم اس کتاب پر کئے جانے والے بعض مشہور تبصروں میں سے چند اقتباسات ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔مولوی ابو سعید محمد تین صاحب بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعتہ السنہ جلد ہفتم نمبر 4۔میں لکھا: ابوسعید ہماری رائے میں یہ کتاب اس زمانہ میں اور موجودہ حالت کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوتی اور آئندہ کی خبر نہیں۔لَعَلَ اللهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَلِكَ اَمْراً۔اور اس کا متولیف بھی اسلام کی مالی و جانی و قلمی و لسانی و حالی و قالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پانی گئی ہے۔ہمارے ان الفاظ کو کوئی ایشیائی مبالغہ سمجھے تو ہم کو کم سے کم ایک ایسی کتاب تبادے جس میں جملہ فرقہ ہائے مخالفینِ اسلام خصوصاً فرقہ ارید و بریم سماج سے ایسے زور شور سے مقابلہ پایا جاتا ہو اور دو چار ایسے اشخاص انصار اسلام کے نشاندہی کرے جنہوں نے اسلام کی جانی ومالی قیمی بانی نصرت کے علاوہ حالی نصرت کا بھی بیڑہ اٹھالیا ہو اور مخالفین اسلام اور منکرین الہام کے مقابلہ میں مردانہ تحدی کے ساتھ یہ دعوی کیا ہو کہ میں کو وجود الہام کا شک ہو وہ ہمارے پاس اگر تجربہ و مشاہدہ کرے اور اس تجربہ و مشاہدہ کا اقوام غیر کو مزہ بھی چکھا دیا ہو۔(۲) براہین احمدیہ کے دوسرے تبصرہ نگار لدھیانہ کے مشہور اور باکمال صوفی مرتاض حضرت صوفی احمد جان صاحب رضی اللہ عنہ تھے جو ریڑ چھتر گورداسپور میں بارہ چودہ برس تک سلوک کی منازل طے