سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 21
۲۱ کرنے کے بعد دعوت رشد و ہدایت کی اجازت لے کر لدھیانہ محلہ جدید میں دھونی رمائے بیٹھے تھے اور جن کے عقیدت مندوں کا حلقہ دُور دُور تک بڑی سرعت سے پھیل رہا تھا اور ان کے رُوحانی کمالات اور توجہ کی برکات کی دھوم مچی ہوئی تھی۔اُن کی دینی عظمت کا پتہ اس سے چلتا ہے کہ لدھیانہ کے بڑے بڑے علماء مثلاً مولوی محمد صاحب لدھیانوی وغیرہ ان کے خاص ارادتمندوں میں شامل تھے۔حضرت صوفی صاحب رضی اللہ عنہ نے اشتہار واجب الاظہار کے نام سے نہایت والہانہ انداز میں ایک مفصل ریویو شائع کیا جس میں براہین احمدیہ کے متعلق بڑے پر شوکت اور دل آویز الفاظ میں اپنے تاثرات سپرد قلم کئے۔حضرت صوفی صاحب موصوف لکھتے ہیں :- " اس چودھویں صدی کے زمانہ میں کہ ہر ایک مذہب و قمت میں ایک طوفانِ بد تمیزی برپا ہے بقول شخصے ' کا فرشتے نئے ہیں مسلماں نئے نئے ایک ایسی کتاب اور ایک ایسے مجدد کی بے شک ضرورت تھی جیسی کہ براہین احمدیہ اور اس کے مولف مخدومنا مولانا میرزا غلام احمد صاحب دام فیوضہ ہیں۔جو ہر طرح سے دعوئی اسلام کو مخالفین پر ثابت فرمانے کیلئے موجود ہیں۔جناب موصوف عامی علماء اور فقراء میں سے نہیں بلکہ خاص اس کام پر منجانب اللہ امور اور مسلم اور مخاطب النی ہیں۔صدہا نیچے الہام اور مخاطبات اور پیشگوئیاں اور رویار صالحہ اور امرانی اور اشارات اور بشارات اجراء کتاب اور فتح و نصرت اور ہدایات امداد کے باب میں زبان عربی، فارسی، اردو انگریزی وغیرہ میں ہیں حالانکہ مصنف صاحب نے ایک لفظ انگریزی کا نہیں پڑھا۔۔۔صاف ظاہر ہوتا ہے بموجب حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے عن ابي هريرة قال فيما اعلم عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ان الله عزّ و جلّ يبعث لهذه الامة على راس كل مائة سنة من يجدد نهادینها درواه ابو داود) مصنف صاحب اس چودھویں صدی کے مجدد اور مجتہد اور محدث اور کامل مکمل افراد اقمت میں سے ہیں۔اس دوسری حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل اسی کی تائید میں ہے۔اس موقعہ پر چند اشعار فارسی اس کتاب کے لکھتا ہوں جین کو پڑھکر ناظرین خود جناب ممدوح کا مرتبه دریافت فرمائیں گے اور یقین ہے کہ خلوص دل