سوانح فضل عمر (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 232 of 367

سوانح فضل عمر (جلد اوّل) — Page 232

بھی کوئی کمی نہیں کی گئی۔لدھیانہ کا فساد اور دہی کا ہنگامہ تو خیر مشروع شروع میں تھا شاء میں جب کہ اس سلسلہ کو ایک خاص ترقی اور یہ ونق بل چکی تھی امرتسر میں وہاں کے بدمعاشوں نے پتھر پھینکنے کی جو جرات کی اور جس طرح بلوہ کیا اسکے آپ میں سے بہت سے لوگ چشم دید گواہ ہوں گے۔پھر ا سکے علاوہ آپ کے قتل کرنے کے منصوبے کئے گئے اور قتل کے مقدمے کئے گئے خود بے انصافی کر کے انصاف کی عدالتوں سے عدل چاہا گیا۔گورنمنٹ کو بدظن کرنے کی کوشش کی گئی اور ٹیکس کا مقدمہ کر کے مالی نقصان کا ارادہ کیا گیا پھر آپ کی ذات کو چھوڑ کر آپ کے متبعین سے بھی نہایت برا اور ڈلیل سلوک کیا گیا یہاں تک کہ اُن کی چوری اور اُن کی امانت میں خیانت اور اُن کا قتل تک جائز رکھا گیا۔اور آجکل کے علما نے فتویٰ دے دیا کہ اُن لوگوں کی عورت میں ایک نکال لیتی جائز ہیں۔وہ گھروں سے نکالے گئے اور اُن کا مال لوٹا گیا۔اُن سے کلام تک کرنا ایک کبیرہ گناہ قرار دیا گیا۔یہاں تک کہ جو اُن کو سلام کرے وہ کا فرادر جو اُن کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافراور یہ سب کچھ اس لئے ہوا کہ انہوں نے مسیح موعود کے ہاتھ پر اس بات کی بعیت کی ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے یعنی اسلام کا نورانی چہرہ دنیا پر عملاً اور قولا نظا ہر کریں گے چنانچہ دشمن یہاں تک ترقی کر گئے کہ حضرت مولوی صاحبزادہ سید عبد اللطیف صاحب اور میاں عبد الرحمن صاحب کا بلی اس راہ میں شہید کئے گئے۔پس اے میرے دوستو با یہ کام جو احمد کی جماعت میں داخل ہو کر آپ نے اپنے ذمے لیا ہے، کچھ چھوٹا سا کام نہیں اور یہ قطعاً گمان نہیں کرنا چاہیے کہ آرام اور آسائش کے ساتھ یہ مدعا حاصل ہو جائے گا بلکہ یاد رکھو کہ اس کام کے پورا کرنے کے لئے طرح طرح کی مشکلات پیش آئیں گی اور مخالفت اور عداوت کا ایک دریا ہو گا جو تمہاری طرف انڈا چلا آئے گا۔تمہارے دوست دشمنوں سے بڑھ کر تمہیں ایذا دیں گے اور بہت ہوں گے جن کو تم وفا دار سمجھتے ہو لیکن جب وہ تمہاری کوششیں اس امر کی طرف مبذول دیکھیں گے تو بے وفائی کریں گے اور مین سے تمہیں خیر کی امید ہوگی اُن سے شہر پہنچے۔۔